ماہرین کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں آج بولی جانے والی زبانوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں بہت کم رہ گئی ہے۔تحقیق کے مطابق یورپی نوآبادیاتی دور سے بھی بہت پہلے ہزاروں مقامی زبانیں بڑی ریاستوں اور سلطنتوں کے پھیلاؤ کے باعث ختم ہوچکی تھیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے سات ہزار بولی اور اشاروں کی زبانیں رائج ہیں تاہم یہ تعداد انسانی تاریخ میں موجود زبانوں کا صرف ایک حصہ ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً ایک ہزار سے تین ہزار سال قبل زبانوں کی تعداد اپنی بلند ترین سطح پر تھی، جب دنیا کے مختلف خطوں میں ہزاروں زبانیں بولی جاتی تھیں۔
بعد ازاں بڑی ریاستوں اور سلطنتوں کے قیام کے ساتھ چھوٹی مقامی زبانیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئیں اور ان کی جگہ زیادہ وسیع علاقوں میں بولی جانے والی زبانوں نے لے لی۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے قدیم انسانی آبادیوں اور ان کی معاشرتی ساخت سے متعلق معلومات کی مدد سے اندازہ لگایا کہ تقریباً بارہ ہزار سال پہلے مختلف انسانی گروہ اپنی الگ زبانیں رکھتے تھے۔
وقت کے ساتھ آبادی میں اضافے، زراعت کے فروغ اور سماجی تبدیلیوں نے زبانوں کی تشکیل اور ان کے خاتمے دونوں پر اثر ڈالا۔
محققین کا کہنا ہے کہ آج دنیا میں عام پائی جانے والی بہت سی لسانی خصوصیات شاید انسانی فطرت کی ترجمانی نہ کرتی ہوں بلکہ یہ ماضی میں ہزاروں زبانوں کے معدوم ہونے کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قدیم زبانوں کی کئی شاخیں آج بھی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ صدی کے اختتام تک پندرہ سو سے زائد زبانیں ہمیشہ کے لیے ختم ہوسکتی ہیں۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جدید دور میں زبانوں کے تحفظ کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ وسائل اور امکانات موجود ہیں، اس لیے بروقت اقدامات کے ذریعے دنیا کے قیمتی لسانی ورثے کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔




















