آج بال پوائنٹ قلم ہماری روزمرہ زندگی کا ایک عام حصہ ہے۔ ہم اسے اتنی آسانی سے استعمال کرتے ہیں کہ اس کی اہمیت کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ لیکن تقریباً 80 سال قبل یہ قلم ایک بڑی ایجاد سمجھا جاتا تھا۔
بال پوائنٹ قلم کو عام طور پر بائرو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نام اس کے موجد لاسلو بیرو کے نام پر رکھا گیا ہے۔
بائرو سے پہلے قلم کیسے ہوتے تھے؟
پرانے زمانے میں لوگ پرندوں کے پروں سے بنے قلم استعمال کرتے تھے۔ بعد میں دھات کی نوک والے قلم اور پھر فاؤنٹین پین آئے۔
ان قلموں سے لکھنا آسان نہیں تھا۔ سیاہی ساتھ رکھنی پڑتی تھی قلم بار بار بھرنا پڑتا تھا اور اکثر سیاہی کاغذ پر پھیل جاتی تھی۔ فاؤنٹین پین بھی کافی مہنگے ہوتے تھے۔
1888 میں ایک امریکی شخص جان جے لاؤڈ نے گیند والی نوک کا قلم بنانے کی کوشش کی، لیکن وہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکا۔
لاسلو بیرو کا خیال
لاسلو بیرو ہنگری میں اخبار کے مدیر تھے۔ انہیں فاؤنٹین پین سے بہت پریشانی ہوتی تھی کیونکہ اس کی سیاہی دیر سے خشک ہوتی اور کاغذ پر پھیل جاتی تھی۔
انہوں نے دیکھا کہ اخبار چھاپنے والی سیاہی جلدی خشک ہوجاتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بھائی گیورگی کے ساتھ مل کر ایسا قلم بنانے کا فیصلہ کیا جس میں گاڑھی سیاہی استعمال ہو۔
انہوں نے قلم کی نوک پر ایک چھوٹی سی دھاتی گیند لگائی۔ جب قلم کاغذ پر چلتا تو گیند گھومتی اور سیاہی کاغذ پر منتقل ہوجاتی یہی بنیادی اصول آج بھی بال پوائنٹ قلم میں استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم میں بائرو کی کامیابی
دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی فضائیہ نے اس قلم میں خاص دلچسپی لی۔
جنگی طیاروں کے پائلٹوں کو دورانِ پرواز لکھنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ فاؤنٹین پین زیادہ بلندی پر سیاہی لیک کرسکتے تھے، لیکن بائرو قلم اس مسئلے سے کافی حد تک محفوظ تھا۔ برطانوی فضائیہ نے ہزاروں ایسے قلم خریدے۔
عام لوگوں تک کیسے پہنچا؟
جنگ کے بعد مختلف کمپنیوں نے بال پوائنٹ قلم بنانا شروع کیے۔ ابتدا میں یہ قلم بہت مہنگے تھے، اس لیے زیادہ لوگ انہیں نہیں خرید سکتے تھے۔ پھر 1950 کی دہائی میں فرانسیسی کاروباری شخص مارسل بِک نے اس ڈیزائن کو سستا اور آسان بنا دیا۔ اسی سے مشہور Bic Cristal قلم وجود میں آیا۔
اس قلم کی خاص بات یہ تھی کہ اسے بہت کم قیمت میں بنایا جاسکتا تھا۔ اس کے بعد بال پوائنٹ قلم دنیا بھر میں پھیل گیا اور اربوں قلم فروخت ہوئے۔
اس قلم نے ہماری زندگی کیسے بدلی؟
بائرو سے پہلے لکھنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی تھی جیسے دوات یا سیاہی، مناسب کاغذ، قلم کی صفائی کا سامان، سیاہی خشک کرنے کے لیے کاغذ اور کافی وقت اور احتیاط تاہم بائرو نے یہ سب بہت آسان کردیا۔
اب ہم قلم جیب سے نکالتے ہیں اور فوراً لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ سیاہی بھرنے، دوات ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں اور عام طور پر سیاہی بھی نہیں پھیلتی۔
یہ قلم تقریباً ہر جگہ استعمال ہوسکتا ہے: اسکول، دفتر، گھر، دکان، بینک، ریسٹورنٹ اور حتیٰ کہ خلا میں بھی۔
آج کے قلم
وقت کے ساتھ بال پوائنٹ قلم میں مزید تبدیلیاں آئیں۔ رولر بال، جیل پین، فائبر ٹِپ اور اسپیس پین جیسے قلم بھی بنے تاہم عام بال پوائنٹ قلم کا بنیادی اصول آج بھی تقریباً وہی ہے جو لاسلو بیرو نے تقریباً 80 سال پہلے متعارف کرایا تھا۔




















