Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بجٹ 2026-27 پیش: تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑا ریلیف، انکم ٹیکس سلیب میں نمایاں کمی اور دفاعی بجٹ میں اضافہ

بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا جس میں تنخواہ دار طبقے کے لئے انکم ٹیکس میں بڑا ریلیف، متعدد سلیبز میں کمی اور سپر ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا۔

بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے جب کہ مختلف شعبوں میں اصلاحات اور اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑا ریلیف

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے انکم ٹیکس کے چار اہم سلیبز میں نمایاں کمی کی ہے۔

انہوں نے کہا متوسط اور بالائی آمدنی رکھنے والے افراد پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج اور سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔

سلیبز میں نمایاں کمی

22 سے 32 لاکھ سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لئے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کردی گئی جب کہ 32 سے 41 لاکھ آمدن پر ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کیا گیا ہے۔

اسی طرح 41 سے 56 لاکھ آمدن والے افراد کے لئے شرح 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کردیا گیا ہے۔

تنخواہوں، پینشن اور کم از کم اجرت میں اضافہ

بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لئے بھی اہم اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ان کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ جب کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ نچلے طبقے کو مہنگائی کے دباؤ میں ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

بجٹ کا حجم اور مالی اہداف

وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ ایف بی آر محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

نان ٹیکس ریونیو 5 ہزار 336 ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ مجموعی قومی آمدن 20 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ بجٹ خسارہ 7 ہزار 20 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ٹیکس اصلاحات اور مختلف رعایتیں

حکومت نے مختلف شعبوں میں ٹیکس اصلاحات کا بھی اعلان کیا ہے جس کے تحت بزنس کلاس فضائی سفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔

بیرون ملک کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کردی گئی ہے جب کہ برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.2 فیصد کردیا گیا ہے۔

آئی ٹی برآمدات پر رعایتی ٹیکس جون 2029 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

سپر ٹیکس میں بڑی تبدیلیاں

سپر ٹیکس کے حوالے سے حکومت نے بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے 15 سے 50 کروڑ روپے آمدن پر سپر ٹیکس مکمل ختم کردیا ہے جب کہ 50 کروڑ سے زائد آمدن پر شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کردی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ 15 سے 25 کروڑ روپے آمدن پر بھی سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل اصلاحات اور معیشت کی صورتحال

وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ معیشت میں ڈیجیٹل اصلاحات اور ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کے تحت اے آئی پر مبنی نظام نے 840 ہائی رسک کیسز کی نشاندہی کی ہے جن سے 34 ارب روپے کا ممکنہ ٹیکس اثر سامنے آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ اور کیش لیس معیشت تیزی سے فروغ پارہی ہے۔

سماجی شعبوں اور ترقیاتی اقدامات

بجٹ میں تعلیم، صحت، ہاؤسنگ اور نوجوانوں کے لئے بھی اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جب کہ حکومت نے دفاعی اخراجات، توانائی اصلاحات اور نجکاری کے عمل کو بھی بجٹ کا حصہ بنایا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کیا جائے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھایا جاسکے۔

دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز

نئے مالی سال میں ملکی دفاعی بجٹ بڑھاکر 3 ہزار ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران ملکی دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے رکھا گیا تھا جب کہ رواں سال کے دوران نظرثانی شدہ دفاعی بجٹ 2595 ارب روپے کیا گیا ہے۔

نئے مالی سال میں ملٹری پینشن کی مد میں 822 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جب کہ جاری مالی سال میں ملٹری پینشن کی مد میں 742 ارب روپے رکھے گئے تھے۔

جاری مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 7 ارب 95 کروڑ رکھے گئے تھے جب کہ نظرثانی شدہ اخراجات 11 ارب 74 کروڑ ہوچکے ہیں اور نئے مالی سال میں انتظامی اخراجات 10 ارب 90 کروڑ رکھے گئے ہیں۔

نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 967 ارب کے اخراجات تجویز کئے گئے ہیں جب کہ جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 846 ارب کے اخراجات رکھے گئے تھے اور نظرثانی شدہ اخراجات 851 ارب روپے ہیں۔

نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 743 ارب تجویز کئے گئے ہیں جب کہ جاری مالی سال میں یہ اخراجات 704 ارب رکھے گئے تھے اور نظرثانی شدہ آپریشنل اخراجات 721 ارب روپے ہیں۔

متعلقہ خبریں