شدید گرمی میں ٹھنڈی آئسکریم یا مشروب پینے کے دوران اچانک پیشانی میں اٹھنے والا تیز درد جسے عام طور پر ’’دماغ فریز ہوجانا‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ وہ دراصل صحت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
ماہرینِ اعصاب کے مطابق یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب منہ یا حلق کے پچھلے حصے میں اچانک بہت زیادہ ٹھنڈک پہنچتی ہے۔
اس کے نتیجے میں خون کی نالیاں تیزی سے سکڑتی اور پھر دوبارہ پھیلتی ہیں جس سے درد پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درد پیشانی یا سر کے اندر محسوس ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مسئلہ بہت عام ہے اور عموماً چند لمحوں میں خود ہی ختم ہوجاتا ہے تاہم بعض افراد میں اس کی شدت زیادہ ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو بار بار شدید سر درد یا دردِ شقیقہ کی شکایت رہتی ہے ان میں ٹھنڈی چیزوں سے ہونے والا یہ درد بھی زیادہ تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔
اٹلی کی ایک جامع تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ کیفیت بعض خاندانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے، یعنی اگر والدین کو ٹھنڈی چیز کھانے سے سر درد ہوتا ہے تو بچوں میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ دردِ شقیقہ کے مریضوں میں چہرے اور پیشانی کے اعصاب زیادہ حساس ہوتے ہیں اسی لیے ٹھنڈی اشیا کھاتے وقت انہیں شدید درد محسوس ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ٹھنڈی اشیا آہستہ آہستہ کھانی چاہئیے تاکہ منہ کو اچانک ٹھنڈک کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر سر درد شروع ہوجائے تو زبان کو تالو سے لگانے یا نیم گرم مشروب پینے سے آرام مل سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کیفیت نے ماضی میں سائنسدانوں کو سر درد اور دردِ شقیقہ کو سمجھنے میں مدد دی کیونکہ اس کے ذریعے انسانی دماغ اور اعصاب کے ردعمل کا مطالعہ آسان ہوجاتا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو بار بار شدید سر درد یا ٹھنڈی چیزوں سے غیر معمولی تکلیف محسوس ہو تو اسے طبی معائنہ ضرور کروانا چاہیے کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہے۔




















