دنیا بھر میں پھیلنے والے خطرناک پرندوں کی بیماری برڈ فلو اب آسٹریلیا تک بھی پہنچ گئی ہے، جہاں مغربی ساحل کے قریب دو بیمار سمندری پرندوں میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ پرندوں میں ایک مخصوص قسم کا وائرس پایا گیا ہے جو انتہائی خطرناک اور تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وائرس گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں پرندوں اور جانوروں کی ہلاکت کا باعث بن چکا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ اس وائرس کی تصدیق آسٹریلیا میں ہوئی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے یہ واضح کریں گے کہ آیا یہ صرف چند کیسز ہیں یا کسی بڑی وبا کا آغاز ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ وائرس دیگر جانوروں خصوصاً سمندری حیات اور جنگلی جانوروں میں بھی منتقل ہوسکتا ہے جب کہ کچھ ممالک میں یہ پہلے ہی گائے، سیلز اور دیگر جانوروں میں بھی پایا جاچکا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ بیماری متاثرہ جانوروں سے قریبی رابطے یا آلودہ ماحول کے ذریعے پھیلتی ہے۔ بڑے پرندوں کی کالونیاں، سمندری پرندے اور مردہ جانور کھانے والے جانور اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ انسانوں کے لیے اس وقت خطرہ کم ہے تاہم متاثرہ جانوروں کے قریب جانے یا رابطے سے بیماری لگنے کا امکان موجود رہتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ وائرس سمندری پرندوں کی نقل و حرکت کے ذریعے جنوبی سمندری علاقوں سے آسٹریلیا تک پہنچا ہے اور اس کی مزید جینیاتی جانچ جاری ہے تاکہ اس کے پھیلاؤ کے راستوں کا تعین کیا جاسکے۔
حکام نے پولٹری فارمز اور دیگر زرعی شعبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات سخت کریں، جانوروں کو جنگلی پرندوں سے دور رکھیں اور کسی بھی غیر معمولی بیماری یا اموات کی فوری اطلاع دیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیماری پھیلتی ہے تو سمندری حیات، مقامی پرندے اور بعض نایاب اقسام کے جانور شدید خطرے میں آسکتے ہیں جس سے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں نے نگرانی اور ہنگامی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔




















