اسلام آباد: صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملکی ترقی، خوشحالی، امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔
صدر آصف زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 14 اگست ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح، تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنوں سمیت قیامِ پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ حالیہ معرکے نے ثابت کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہونے کے ساتھ اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کا حامی ہے۔
صدر مملکت نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان باہمی احترام اور خودمختاری کی پاسداری کا خواہاں ہے۔ افغان سرزمین کا پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا تشویش کا باعث ہے جبکہ پاکستانی مسلح افواج ہر قسم کے مذموم عزائم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام
وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی پر اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان ترقی اور خوشحالی کی جانب آگے بڑھ رہا ہے اگرچہ اس سفر میں متعدد چیلنجز کا سامنا بھی رہا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے مشکل حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے معاشی استحکام کے حصول کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے ہر مشکل گھڑی اور دشمن کی کارروائیوں کا مؤثر جواب دے کر ثابت کیا کہ مادرِ وطن کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
سیاسی رہنماؤں کے یومِ آزادی کے پیغامات
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کے عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کی۔
گورنر ہاؤس پشاور میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے قوم کو جشنِ آزادی کی مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا موقع ہے کہ پاکستانی ایک آزاد ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ آزادی ہمیں آزادی کے مقاصد اور قیامِ پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں اتحاد، تنظیم اور یقینِ محکم کے اصولوں کے تحت پاکستان قائم ہوا تاہم 1971 میں ملک کا اتحاد متاثر ہوا۔ قوم کو علاقائی، لسانی اور گروہی تقسیم سے بالاتر ہو کر متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 14 اگست پاکستان کی تاریخ کا ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کی قربانیاں شامل ہیں جبکہ دفاعِ وطن، قیامِ امن اور دہشت گردی کے خلاف جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان قائم و دائم رہے گا اور کوئی طاقت ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
انہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور امن کے لیے متحد ہو کر کام کرنے پر زور دیا اور کہا کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

















