بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مردانہ ہارمونز کی کم سطح کینسر سے اموات کے بڑھتے خطرے سے جڑی ہوسکتی ہے تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کم ہارمون براہِ راست کینسر کا سبب بنتا ہے۔
تحقیق کے لیے 11 طویل المدتی مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں 26 ہزار سے زائد مردوں کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد کی صحت کا فالو اپ کم از کم پانچ سال تک کیا گیا۔
نتائج کے مطابق جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح انتہائی کم تھی، ان میں مستقبل میں کینسر سے موت کا خطرہ نسبتاً زیادہ پایا گیا۔ اسی طرح کم سطح رکھنے والے افراد میں کینسر کی تشخیص کا امکان بھی بڑھا ہوا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق خطرہ اس وقت زیادہ نمایاں ہوا جب ہارمون کی سطح ایک خاص حد سے کم ہوگئی۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کم ہارمون کی سطح رکھنے والے افراد میں مجموعی صحت کے مسائل زیادہ ہوسکتے ہیں۔
تحقیق میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ پروسٹیٹ کینسر کے حوالے سے کم ٹیسٹوسٹیرون اور بیماری کے درمیان کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہوسکا جو ماہرین کے لیے غیر متوقع نتیجہ تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ مرد ہارمون کی سطح بڑھانے والی ادویات استعمال کریں بلکہ کم سطح کو ایک ممکنہ خطرے کی علامت کے طور پر دیکھا جائے۔
محققین کے مطابق ٹیسٹوسٹیرون کی کم سطح بعض اوقات جسم میں دیگر بیماریوں یا صحت کے خطرات کی نشاندہی بھی کرسکتی ہے، اس لیے ایسے افراد کو مکمل طبی معائنہ کروانا چاہیے۔
ماہرین نے زور دیا کہ یہ نتائج براہِ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کرتے تاہم یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ ہارمونز کی سطح مستقبل کی صحت کے خطرات کی پیش گی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ طبی معائنہ اور احتیاطی اقدامات مردوں میں مجموعی صحت بہتر رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔




















