دنیا کے مختلف ممالک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بعض افراد ایک ایسی پراسرار دھیمی آواز سننے کی شکایت کرتے رہے ہیں جو ان کے اردگرد موجود دوسرے لوگوں کو سنائی نہیں دیتی۔
اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس عجیب کیفیت کی وجہ بیرونی نہیں بلکہ بعض افراد کے کانوں کے اندر پیدا ہونے والا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔
جرمنی کے ماہرین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق کئی افراد کو سنائی دینے والی یہ مسلسل مدھم گونج دراصل سماعت سے متعلق ایک ایسی کیفیت ہوسکتی ہے جس میں کسی بیرونی آواز کے بغیر بھی انسان کو آواز محسوس ہوتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے اس پراسرار آواز کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی رہی ہیں جن میں صنعتی شور اور غیر معمولی حساس سماعت شامل تھیں تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی وجہ سماعت کے نظام کے اندر پیدا ہونے والی خرابی ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے لیے ایسے 28 افراد کو شامل کیا گیا جنہوں نے طویل عرصے سے اس مدھم آواز کو سننے کی شکایت کی تھی۔ ماہرین نے ان کی سماعت اور کانوں کے اندر پیدا ہونے والی نہایت ہلکی آوازوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر شرکا کی کم درجے کی آوازیں سننے کی صلاحیت عام افراد جیسی ہی تھی جب کہ کانوں کے اندر پیدا ہونے والی قدرتی آوازوں میں بھی کوئی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق اس سے یہ امکان مضبوط ہوتا ہے کہ بعض افراد کے لیے یہ آواز دراصل سماعت کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کو بغیر کسی بیرونی ذریعے کے مسلسل آواز محسوس ہوتی ہے۔
عام طور پر اس کیفیت میں تیز سیٹی یا گھنٹی جیسی آواز سنائی دیتی ہے تاہم بعض افراد کو یہی مسئلہ دھیمی گونج یا بھنبھناہٹ کی صورت میں بھی محسوس ہوسکتا ہے۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے تمام واقعات کی وضاحت نہیں ہوتی تاہم متعدد افراد کے لیے یہی وجہ سب سے زیادہ قابلِ قبول معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس پراسرار گونج کو سماعت کی اسی کیفیت کا حصہ تسلیم کرلیا جائے تو متاثرہ افراد کے لیے پہلے سے موجود علاجی طریقوں اور علامات پر قابو پانے کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔




















