واشنگٹن: امریکا کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی طویل لہر برقرار ہے جس کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ملک کا سب سے جان لیوا موسمی خطرہ بن چکی ہے جب کہ حکومتی تیاریوں کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ناکافی قرار دیا جارہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یومِ آزادی کی تعطیلات کے دوران امریکا کی تقریباً نصف آبادی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہی۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایسے موسمی حالات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف درجہ حرارت کو غیر معمولی حد تک بڑھادیتی ہے بلکہ طویل عرصے تک برقرار رہنے والی گرمی کے باعث اموات اور بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 1999 سے 2023 کے دوران امریکا میں 21 ہزار 518 افراد کی اموات ایسی ریکارڈ کی گئیں جن میں شدید گرمی بنیادی یا معاون وجہ بنی۔
ماہرین نے یاد دلایا کہ 2021 میں آنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے دوران بھی اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی تھی اور بڑی تعداد میں افراد کو ہنگامی طبی امداد کی ضرورت پیش آئی تھی۔
قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے کی ماہر خوانیتا کانسٹیبل کے مطابق بہت سی مقامی آبادیوں نے تیاریوں کی کوشش ضرور کی ہے مگر موجودہ حالات سے نمٹنے کے لیے وہ اب بھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔
خوانیتا کانسٹیبل کے مطابق بڑھتی مہنگائی، بجلی اور پانی پر اضافی دباؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے وسائل میں کمی نے خطرات مزید بڑھادیے ہیں۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد شدید گرمی کے حقیقی خطرات کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ خاص طور پر نسبتاً ٹھنڈے علاقوں کے رہائشی بدلتے موسم کے اثرات کا درست اندازہ نہیں لگا پارہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمر رسیدہ افراد گرمی سے لاحق خطرات کو سب سے زیادہ کم سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ اس کے باعث بیماری اور موت کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
بڑھاپے میں جسم کی ٹھنڈا رہنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور کئی افراد ادویات یا محدود جسمانی حرکت کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین نے خاص طور پر کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کئی مقامات پر کارکنوں کو پینے کے پانی، آرام اور گرمی سے بچاؤ کی بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جاتیں جس سے ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ شدید گرمی کو معمول کا موسم سمجھنے کے بجائے ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کے طور پر لیا جائے۔




















