Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصنوعی مٹھاس صحت کے لیے واقعی محفوظ ہے؟ نئی تحقیق نے اہم سوالات اٹھادیے

مصنوعی مٹھاس وقتی طور پر بہتر متبادل ہوسکتی ہے، تحقیقی ٹیم

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی مصنوعی مٹھاس جسم کے اندر شوگر کے توازن اور دیگر افعال پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے تاہم ماہرین نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

چینی کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی مصنوعی مٹھاس کے بارے میں نئی تحقیق نے اس کے صحت پر ممکنہ اثرات سے متعلق اہم سوالات اٹھادیے ہیں۔

تحقیق میں 21 طبی آزمائشوں کے نتائج کا جائزہ لیا گیا جن میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد کا موازنہ پانی یا دیگر بے ذائقہ متبادل استعمال کرنے والوں سے کیا گیا۔

نتائج کے مطابق مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والوں میں خالی پیٹ انسولین کی مقدار اور طویل عرصے تک خون میں شوگر کی کیفیت ظاہر کرنے والے اشاریے کی سطح زیادہ دیکھی گئی جب کہ جسم میں انسولین کے مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت میں کمی کا رجحان بھی سامنے آیا۔

محققین کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ آنتوں میں موجود مفید جراثیم میں آنے والی تبدیلیاں ہوسکتی ہیں کیونکہ پہلے کی تحقیقات بھی بتا چکی ہیں کہ مصنوعی مٹھاس بعض مفید جراثیم کی ساخت اور کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ مصنوعی مٹھاس زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں دوسری قسم کی ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سمیت جسمانی افعال سے متعلق بعض امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ موجودہ نتائج سے صرف ممکنہ تعلق ظاہر ہوتا ہے، یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان بیماریوں کی براہِ راست وجہ مصنوعی مٹھاس ہی ہے۔ اس لیے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص زیادہ مقدار میں چینی استعمال کرتا ہے تو اس کے مقابلے میں مصنوعی مٹھاس وقتی طور پر بہتر متبادل ہوسکتی ہے تاہم اسے مکمل طور پر بے ضرر سمجھنا درست نہیں۔ اس لیے جہاں ممکن ہو اس کے استعمال سے گریز کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔