جنوبی کوریا کے سائنس دانوں نے ایسے نرم آنکھوں کے کانٹیکٹ لینس تیار کرلیے ہیں جو معمولی خراش پڑنے کے بعد عام الٹرا وائلٹ روشنی میں صرف ایک گھنٹے کے اندر خود ہی اپنی مرمت کرلیتے ہیں جس سے انہیں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق روزمرہ استعمال اور صفائی کے دوران نرم کانٹیکٹ لینس پر نہایت باریک خراشیں پڑجاتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ آنکھوں اور بینائی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔
اگر خراش نمایاں ہوجائے تو کانٹیکٹ لینس پھینکنا پڑتا ہے جب کہ معمولی خراش بھی جراثیم اور میل کچیل جمع ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
جنوبی کوریا کی ڈین کوک یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا نیا مادہ تیار کیا ہے جس میں گندھک پر مبنی خاص کیمیائی بندھن شامل کیے گئے ہیں۔
یہی بندھن ٹوٹنے کے بعد عام الٹرا وائلٹ روشنی ملنے پر دوبارہ جڑجاتے ہیں جس سے کانٹیکٹ لینس کی خراش بڑی حد تک ختم ہوجاتی ہے۔
محققین نے اس نئے مادے میں ایک اور جز بھی شامل کیا جس سے کانٹیکٹ لینس کی سطح زیادہ مضبوط ہوئی اور اس میں خراش پڑنے اور جراثیم چپکنے کے امکانات بھی کم ہوگئے۔
آزمائش کے دوران نئے کانٹیکٹ لینس نے عام کانٹیکٹ لینس کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی اور تقریباً 90 فیصد مضبوطی دوبارہ حاصل کرلی۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نئے کانٹیکٹ لینس نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت میں موجودہ نرم کانٹیکٹ لینس کے برابر ہیں جب کہ ان پر خراشیں بھی نسبتاً کم پڑتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ کانٹیکٹ لینس نہ صرف خود مرمت کرسکتے ہیں بلکہ پہلے ہی زیادہ دیر تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ آزمائشیں بھی کامیاب رہیں تو مستقبل میں گھروں میں استعمال ہونے والے عام الٹرا وائلٹ صفائی کے آلات سے نہ صرف کانٹیکٹ لینس کی صفائی کی جاسکے گی بلکہ ان کی معمولی خراشیں بھی دور کی جاسکیں گی۔
تاہم سائنس دانوں کے مطابق یہ کانٹیکٹ لینس ابھی تحقیقی مرحلے میں ہیں اور عام استعمال سے پہلے ان کی مزید حفاظتی جانچ ضروری ہے تاکہ یہ مکمل طور پر محفوظ ثابت ہوسکیں۔




















