Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تنخواہ میں اضافہ یا نئی گاڑی کی خوشی جلد کیوں ماند پڑ جاتی ہے؟ ماہرین نے وجہ بتا دی

یہ کیفیت کسی شخص کی ناشکری یا ذاتی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ انسانی دماغ کا ایک فطری نفسیاتی عمل ہے

 ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ تنخواہ میں اضافہ، نئی گاڑی کی خریداری، گھر کی تزئین و آرائش یا دیگر بڑی کامیابیاں اگرچہ ابتدا میں بے حد خوشی کا باعث بنتی ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان سے وابستہ خوشی کی شدت کم ہو جاتی ہے، جسے نفسیات میں “ہیڈونک ایڈاپٹیشن” یا “لذت سے مانوس ہو جانا” کہا جاتا ہے۔

ویب سائٹ بولڈے  کے مطابق یہ کیفیت کسی شخص کی ناشکری یا ذاتی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ انسانی دماغ کا ایک فطری نفسیاتی عمل ہے جس کے تحت انسان نئی سہولتوں، کامیابیوں اور آسائشوں کا عادی ہو جاتا ہے اور وہ چیزیں رفتہ رفتہ روزمرہ معمول کا حصہ بن جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دماغ نئی چیزوں پر زیادہ شدت سے ردِعمل ظاہر کرتا ہے لیکن جب وہی چیز معمول بن جائے تو اس سے حاصل ہونے والی خوشی اور جوش میں کمی آنے لگتی ہے یہی وجہ ہے کہ تنخواہ میں اضافہ، نئی گاڑی یا نیا گھر بھی کچھ عرصے بعد پہلے جیسا احساسِ مسرت برقرار نہیں رکھ پاتے۔

اس حوالے سے ماہرین نے ایک معروف نفسیاتی تحقیق کا حوالہ دیا جس میں حال ہی میں لاٹری جیتنے والے افراد اور حادثات کے نتیجے میں فالج کا شکار ہونے والے افراد کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق تقریباً ایک سال بعد لاٹری جیتنے والوں کی خوشی معمولی حد تک ہی زیادہ رہی، جبکہ فالج کے شکار افراد بھی بڑی حد تک اپنی سابقہ جذباتی کیفیت کی طرف واپس آ گئے۔ ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسانی ذہن وقت کے ساتھ اپنی بنیادی جذباتی سطح پر واپس آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا زیادہ خوشی بھی دل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے؟ نایاب طبی کیس سامنے آگیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی نفسیاتی نظام خوشی اور غم دونوں پر یکساں طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جس طرح خوشگوار تجربات کی کشش وقت کے ساتھ کم ہو جاتی ہے، اسی طرح صدمے، نقصان اور ناکامی کے اثرات بھی آہستہ آہستہ مدھم پڑ جاتے ہیں، جس سے انسان جذباتی طور پر دوبارہ متوازن ہونے لگتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقل ذہنی سکون صرف مادی کامیابیوں یا نئی خریداریوں سے حاصل نہیں ہوتا کیونکہ ان کا اثر عارضی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک دیرپا اطمینان عموماً مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات، بامقصد کام، شکرگزاری اور صحت مند روزمرہ عادات سے وابستہ ہوتا ہے جو انسان کی جذباتی کیفیت کو زیادہ دیر تک مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں