ایک انتہائی منفرد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسان کی صحت، بڑھاپے کی رفتار اور ممکنہ عمر پر اثرات پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو سکتے ہیں جبکہ حمل کے دوران ماں کی صحت، غذائیت اور ذہنی دباؤ بچے کی جسمانی نشوونما پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق رحمِ مادر کا ماحول بچے کے جسمانی اعضاء اور مختلف حیاتیاتی نظاموں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے جس کے اثرات زندگی بھر برقرار رہ سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ جینیاتی عوامل انسانی صحت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں تاہم حمل کے دوران بچے کو ملنے والا ماحول بھی مستقبل میں صحت اور مختلف بیماریوں کے خطرات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ؛ مردہ خاتون سے عطیہ کردہ رحم سے بچے کی پیدائش
ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائشی جسامت اور مجموعی صحت پر والدین خصوصاً ماں کی صحت اور طرزِ زندگی کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور تمباکو نوشی سے اجتناب جیسے صحت مند معمولات نہ صرف حمل کے دوران ماں کی صحت بہتر بناتے ہیں بلکہ بچے کی مستقبل کی صحت کو بھی بہتر بنانے اور بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تحقیق میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ حمل سے پہلے اور ابتدائی زندگی کے عوامل پر مزید سائنسی تحقیق کی جائے تاکہ انسانی صحت اور طویل عمر پر ان کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
ماہرین نے اس تحقیق کو زچگی کی بہتر صحت اور حمل کے دوران معیاری طبی نگہداشت کی اہمیت اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جس کے فوائد بچے کی پوری زندگی تک پہنچ سکتے ہیں۔



















