سائنس دانوں نے انسانی پھیپھڑوں کی ساخت سے متاثر ہو کر ایک نیا “بریتھ ایبل” ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو مستقبل میں پہننے کے قابل طبی آلات، زخموں کی پٹیاں اور صحت کی نگرانی کرنے والے سینسرز کو زیادہ آرام دہ اور مؤثر بنا سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں جسمانی صحت کی مسلسل نگرانی والے پہننے کے قابل سینسرز، طبی پیچز اور زخموں کی ڈریسنگز کے رجحان میں کافی اضافہ ہوا ہے تاہم ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے روایتی ہائیڈروجیل میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے یہ جیل گرمی اور پسینہ اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں جس سے جلد میں جلن پیدا ہونے کے ساتھ ان سینسرز کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (مائٹ) کے انجینیئرز نے ایک ایسا ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جس میں ہوا سے بھرے انتہائی باریک تین جہتی راستوں کا مستحکم جال موجود ہے یہ راستے آکسیجن اور پانی کے بخارات کو آسانی سے گزرنے دیتے ہیں جبکہ ہائیڈروجیل اپنی نمی اور نرمی برقرار رکھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ نیا ہائیڈروجیل تقریباً 70 فیصد پانی پر مشتمل ہونے کے باوجود آکسیجن گزرنے کی صلاحیت میں روایتی ہائیڈروجیل کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ مؤثر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی آلودگی پھیپڑوں کے ساتھ دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے، تحقیق
اس کامیابی کے لیے محققین نے عام ہائیڈروجیل میں معمولی مقدار میں سلیکا ایروجیل کے ذرات شامل کیے جنہیں ٹھوس شکل میں موجود ہوا کے بلبلے بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہ ذرات ہائیڈروجیل کے اندر ہوا سے بھرے باریک راستوں کو برقرار رکھتے ہیں جس سے مواد کے اندر آکسیجن اور پانی کے بخارات کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ نیا ہائیڈروجیل سلیکون اور پولی یوریتھین سے بنے پیچز کے مقابلے میں 10 سے 100 گنا زیادہ پانی کے بخارات خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے جلد خشک اور ٹھنڈی رہتی ہے۔
محققین نے اس کی مضبوطی کا بھی جائزہ لیا جہاں 10 ہزار مرتبہ کھینچنے کے بعد بھی ہائیڈروجیل نے اپنی تقریباً 95 فیصد ہوا گزارنے کی صلاحیت برقرار رکھی۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ مواد ابھی طبی استعمال کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔ اس کی طویل مدتی حفاظت، بڑے جانوروں پر آزمائش، جراثیم سے پاک کرنے کے طریقہ کار، صنعتی پیمانے پر تیاری، ذخیرہ کرنے کی مدت اور ریگولیٹری منظوری سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو جلد پر استعمال ہونے والی مصنوعات کے علاوہ ٹشو انجینیئرنگ اور جسم کے اندر لگائے جانے والے طبی آلات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں خلیوں تک آکسیجن کی مؤثر فراہمی ایک بڑا چیلنج سمجھی جاتی ہے۔




















