Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کورونا کے اثرات توقع سے زیادہ سنگین؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

جسم میں اوسطاً 8 سے 12 ایسے وائرس موجود ہوتے ہیں جو کئی برس تک غیر فعال رہ سکتے ہیں۔

نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انسانی جسم میں برسوں سے غیر فعال حالت میں موجود بعض وائرس دوبارہ سرگرم ہوسکتے ہیں جس سے بیماری کی شدت اور پیچیدگیوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک جامعہ کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق بیشتر افراد کے جسم میں اوسطاً 8 سے 12 ایسے وائرس موجود ہوتے ہیں جو کئی برس تک غیر فعال رہ سکتے ہیں۔ یہ وائرس عام حالات میں کوئی علامات ظاہر نہیں کرتے تاہم جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہونے، ذہنی دباؤ یا دیگر بیماریوں کی صورت میں دوبارہ متحرک ہوسکتے ہیں۔

محققین نے 1100 سے زائد ایسے مریضوں کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا جو کورونا کے باعث اسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان میں سے نصف سے زیادہ مریضوں میں کم از کم ایک غیر فعال وائرس دوبارہ سرگرم ہوگیا تھا۔

تحقیق کے مطابق چکن پاکس پیدا کرنے والا وائرس، ہرپس سے تعلق رکھنے والے وائرس، غدودی بخار کا سبب بننے والا وائرس اور دیگر خاموش وائرس کورونا کے دوران دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت بیماری کو مزید پیچیدہ بناسکتی ہے۔

محققین کے مطابق بعض مریضوں میں دوبارہ متحرک ہونے والے وائرس پھیپھڑوں کے سکڑ جانے، خون جمنے اور دیگر پیچیدگیوں سے بھی منسلک پائے گئے تاہم اس تعلق کی مکمل تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ کورونا صرف ایک وائرس کی بیماری نہیں بلکہ یہ جسم میں پہلے سے موجود غیر فعال وائرسز کے توازن کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ان وائرسز کی تشخیص کے لیے طبی جانچ پہلے ہی دستیاب ہے جب کہ بعض وائرسز کا علاج موجودہ ادویات سے ممکن ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آئندہ تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ اگر ایسے دوبارہ متحرک ہونے والے وائرسز کی بروقت تشخیص اور علاج کیا جائے تو کیا کورونا اور اس کے طویل المدتی اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔