ایک پرانی اور انتہائی کم قیمت دوا کی کم مقدار دل کے کمزور مریضوں کو اسپتال داخل ہونے سے بچانے اور سنگین پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
نیدرلینڈز کے یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے ماہرین کی تین تحقیقی رپورٹس میں کم مقدار میں ڈیگوکسن کے استعمال کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں جن سے مستقبل میں دل کی کمزوری کے علاج کے رہنما اصول تبدیل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دل کی کمزوری ایسی سنگین بیماری ہے جس میں دل جسم کو مطلوبہ مقدار میں خون فراہم کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کے نتیجے میں سانس لینے میں دشواری، تھکن اور بار بار اسپتال جانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
تحقیق میں نیدرلینڈز کے 43 مراکز سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار مریض شامل تھے۔ نصف مریضوں کو معمول کے علاج کے ساتھ کم مقدار میں ڈیگوکسن دی گئی جب کہ باقی مریضوں کو بے اثر دوا دی گئی۔ یہ عمل تقریباً تین سال تک جاری رہا۔
نتائج کے مطابق ڈیگوکسن استعمال کرنے والے مریضوں میں دل کی بیماری سے ہونے والی اموات اور دل کی کمزوری بگڑنے کے واقعات میں 19 فیصد کمی دیکھی گئی تاہم یہ نتیجہ اعدادوشمار کے اعتبار سے حتمی نہیں تھا۔
بعد ازاں دو سابقہ تحقیقات کے نتائج بھی شامل کیے گئے تو معلوم ہوا کہ کم مقدار میں ڈیگوکسن استعمال کرنے سے دل کی کمزوری کے باعث اسپتال داخل ہونے کی شرح میں اوسطاً 25 فیصد کمی آئی۔
ایک اور تحقیق میں تقریباً 600 مریضوں کا جائزہ لیا گیا جس میں محققین نے پایا کہ دوا استعمال کرنے کے بعد اسے اچانک بند کرنے والے مریضوں میں ابتدائی چھ ہفتوں کے دوران پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ گیا۔
ماہرین کے مطابق ڈیگوکسن کئی دہائیوں سے استعمال ہونے والی کم قیمت دوا ہے اور اس کی روزانہ لاگت دس سینٹ سے بھی کم ہے جب کہ جدید ادویات کی قیمت اس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نئی تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مستقبل میں دل کی کمزوری کے علاج میں ڈیگوکسن کے کم مقدار والے استعمال کو مزید اہمیت مل سکتی ہے۔




















