آسٹریلیا میں کی گئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ بریڈ میں پالک شامل کرنے سے نہ صرف اس کی غذائیت میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ جسم میں انسولین کے ردعمل اور بھوک کے احساس پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔
موناش یونیورسٹی کے محققین نے 15 صحت مند افراد پر تحقیق کی، جنہیں ایک روز عام سفید بریڈ جب کہ دوسرے روز پالک شامل کرکے تیار کی گئی بریڈ کھلائی گئی۔
تحقیق میں شامل افراد کو یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کس روز کون سی بریڈ کھا رہے ہیں جب کہ دونوں اقسام کی بریڈ کے ذائقے اور خوشبو میں بھی زیادہ فرق محسوس نہیں کیا گیا۔
نتائج کے مطابق پالک والی بریڈ میں عام سفید بریڈ کے مقابلے میں غذائی ریشہ 28 فیصد، فولاد 90 فیصد اور کیلشیم 78 فیصد زیادہ تھا جب کہ فولک ایسڈ کی مقدار میں 58 فیصد اور پوٹاشیم کی مقدار میں دو گنا اضافہ دیکھا گیا۔
محققین نے بتایا کہ دونوں اقسام کی بریڈ کھانے کے بعد خون میں شوگر کی مقدار میں نمایاں فرق سامنے نہیں آیا تاہم پالک والی بریڈ کھانے والے افراد میں انسولین کی بلند ترین سطح تقریباً 30 منٹ بعد دیکھی گئی۔
اس کے علاوہ پالک والی بریڈ کھانے والے افراد نے تین گھنٹے بعد بھوک میں وہ اضافہ محسوس نہیں کیا جو عام سفید بریڈ استعمال کرنے والوں میں دیکھا گیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پالک میں موجود غذائی اجزا آنتوں اور دماغ کے درمیان بھوک سے متعلق نظام کو متاثر کرسکتے ہیں جس سے بعد میں کھانے کی خواہش اور جسم میں نشاستہ دار غذاؤں کے استعمال کے عمل پر اثر پڑسکتا ہے۔
اس سے قبل کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ بریڈ میں تقریباً 20 فیصد پالک شامل کرنے سے غذائیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جب کہ ذائقے، خوشبو اور ساخت میں نمایاں فرق نہیں آتا۔
محققین نے تاہم واضح کیا کہ یہ ایک محدود پیمانے پر کی گئی تحقیق ہے اور اس کے نتائج کی تصدیق کے لیے زیادہ افراد پر مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پالک یا دیگر سبزیوں کو روزمرہ استعمال ہونے والی غذاؤں میں شامل کرنا غذائیت بہتر بنانے کا ایک مفید طریقہ ہوسکتا ہے تاہم ایسی بریڈ تازہ اور مکمل سبزیوں کے استعمال کا متبادل نہیں بن سکتی۔




















