اگر شادی محبت کی ہو تو پھر عمر کوئی معنی نہیں رکھتی تاہم ارینج میرج میں لڑکے اور لڑکی عمر کے درمیان عمر کا فرق ایک اہم مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔
شادی زندگی کا ایک اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں شوہر کی عمر بیوی سے زیادہ ہوتی ہے یا کبھی ان کے درمیان چند سال کا فرق ہوتا ہے یہ فرق مختلف ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے عمر کا کتنا فرق مثالی ہے؟ آئیے اس پر نظر ڈالتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق میاں بیوی کے درمیان 5 سے 7 سال کا عمر کا فرق عموماً قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے زیادہ عمر کے فرق سے ازدواجی مسائل کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں ساتھ سوچ اور نظریات میں فرق بھی ہو سکتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسی شادیاں زیادہ دیر تک قائم رہتی ہیں جن میں دونوں شریک حیات کی دلچسپیاں اور ترجیحات ایک جیسی ہوں۔
مشترکہ مشاغل جیسے پسندیدہ ٹی وی شوز، فلمیں، کھانے پینے کی جگہیں یا سفر، میاں بیوی کے تعلق کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
تاہم عمر اور شادی کا تعلق صرف یہیں ختم نہیں ہوتا تحقیق یہ بھی مشورہ دیتی ہے کہ 25 سال سے کم عمر مردوں سے شادی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ وہ گھریلواور ازدواجی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے مکمل طورتیار نہیں ہوتے دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین عام طور پر مردوں کے مقابلے میں جلد بالغ ہو جاتی ہی اور 21 سال کی خواتین اکثر ہم عمر مردوں سے زیادہ سمجھدار ہوتی ہیں۔
چیلنجز اس وقت بھی پیدا ہو سکتے ہیں جب عمر کا فرق بہت کم ہو مثلاً صرف 1 سے 2 سال ایسے میں میاں بیوی کے درمیان اختلافات زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی انا اور ضد ایک جیسی سطح پر ہوتی ہے اس کے برعکس زیادہ عمر کا فرق بعض اوقات بہتر تعلقات کا باعث بنتا ہے جہاں عمر میں بڑے شوہر زیادہ سمجھدار اور برداشت کرنے والے ہوتے ہیں جبکہ کم عمر بیویاں اپنے شوہروں کا زیادہ احترام کرتی ہیں اور ان کی بات سنتی ہیں۔
اس طرح ایک مثالی شادی میں اکثر 5 سے 7 سال کا عمر کا فرق دیکھا جاتا ہے تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ خواتین عموماً عمر میں بڑے مردوں کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ مرد کم عمر خواتین کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ آخرکار کامیاب شادی کا انحصار عمر کے فرق سے زیادہ باہمی محبت، رویے اور ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔




















