پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے عالمی دن 2026 کے موقع پر بلیو ہیلمٹس کی گراں قدر خدمات اور عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے ساتھ پاکستان کی وابستگی چھ دہائیوں پر محیط ہے جو عالمی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 1960 سے اب تک 2 لاکھ 37 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے مختلف امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ 183 بہادر پاکستانی اہلکار دورانِ ڈیوٹی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی بلیو ہیلمٹس اس وقت بھی جمہوریہ کانگو، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ جیسے خطرناک علاقوں میں تعینات ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی دستے فعال عسکری کارروائیوں سے لے کر ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے تک متنوع ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ موجودہ دور کے جنگی علاقوں کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ غیر مستحکم، پیچیدہ اور غیر متوازن ہیں، آج کے امن اہلکار ہائبرڈ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات، ڈیجیٹل گمراہ کن مہمات، سیاسی تقسیم اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے جنم لینے والے انسانی بحران شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 2026 کا موضوع ”امن میں سرمایہ کاری“ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کو امن کے فعال تحفظ کی جانب بڑھنا ہوگا، موجودہ دور میں ”امن میں سرمایہ کاری“ کے لیے تکنیکی اور ادارہ جاتی ارتقا ناگزیر ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جدید انٹیلی جنس نظام، شہریوں کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ آپریشنل ڈھانچوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج یو این امن مشنز کے نظریات اور مقاصد کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ باوقار اور قابلِ فخر موقع پر پاکستان اقوامِ متحدہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، پاکستان عالمی برادری کو یاد دلاتا ہے کہ پائیدار امنخودکار یا یقینی امر نہیں بلکہ اس کے لیے مسلسل اور اجتماعی کاوشیں ہوتی ہے، پاکستان اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے بین الاقوامی استحکام، سلامتی اور انسانی امداد کے لیے ہراول دستے کے طور پر عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
















