Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی کے لیے 10 ارب روپے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں، فاروق ستار

وزیراعظم کی 20 مئی کی ملاقات میں 25 ارب روپے پر اتفاق ہوا تھا، ایم کیو ایم کا دعویٰ

اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کراچی و حیدرآباد کے لیے اربن ڈویلپمنٹ پیکج 25 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعظم کی 20 مئی کی ملاقات میں 25 ارب روپے پر اتفاق ہوا تھا تاہم بجٹ میں کراچی کے لئے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو ناانصافی ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی ملک کو ہزاروں ارب روپے کا ریونیو دیتا ہے لیکن اس کے باوجود ترقیاتی پیکج ناکافی ہے۔ کراچی کے لئے 10 ارب روپے کی رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کی جانب سے گورنر سندھ کا عہدہ واپس دینے کا مطالبہ بھی دہراتے ہوئے کہا کہ یہ عہدہ ان کی جماعت کا حق ہے مگر حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے میں ایم کیو ایم کی مجوزہ ترمیم پر بھی حکومت نے کوئی ٹائم لائن نہیں دی جب کہ بجٹ کی منظوری سے قبل تین اہم مطالبات پر واضح جواب ضروری ہے۔ حکومت سے محض یقین دہانیاں نہیں بلکہ دو ٹوک جواب درکار ہے۔

فاروق ستار کہتے ہیں کہ موجودہ بجٹ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا، اگرچہ نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا لیکن موجودہ ٹیکسوں کا بوجھ برقرار ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالواسطہ ٹیکس کم ہونے سے بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی جس سے عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا۔ کاروبار اور سرمایہ کاری کی لاگت کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ٹیکسوں میں کمی کے بغیر معیشت اور صنعتیں ترقی نہیں کرسکتیں۔