امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ممکنہ معاہدے کے بارے میں بہت سی غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کوئی نقد رقم نہیں دی جا رہی اور نہ ہی کسی معاہدے یا ملاقات کے بدلے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔
جے ڈی وینس کے مطابق مجوزہ معاہدہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے سکیورٹی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو پورے خطے کو معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور یہ معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ معاہدے کی تکمیل تک اس کے مندرجات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف اور ذمہ دارانہ پالیسی کے تحت تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران سے متعلق خبروں اور بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی میڈیا میں زیرِ گردش شرائط کا اصل مذاکراتی نکات سے کوئی تعلق نہیں۔
امریکی صدر نے ایرانی مؤقف کو کمزور اور قابلِ رحم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیرسگالی کی بنیاد پر کوئی معاہدہ ممکن نہیں اور امریکا اپنے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان کو بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا، جس کے بعد معاہدے سے متعلق سفارتی اور سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق متضاد بیانات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم کسی حتمی پیش رفت یا معاہدے کے لیے ابھی باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




















