سندھ کابینہ نے نئے مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ کا مجموعی حجم 2.7 ٹریلین روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے جبکہ صوبے کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 2,560 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 50.12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صحت کے لیے 38.89 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ان دونوں شعبوں میں متعدد جاری ترقیاتی منصوبے بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کم از کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے اور اس میں 5 ہزار روپے اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
کابینہ اجلاس کے دوران وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے اور حکومت عوامی فلاح کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ نے یہ بھی بتایا کہ محنت کشوں کے لیے کم از کم اجرت کے حوالے سے بھی نئے بجٹ میں اہم فیصلے شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ آج سہ پہر سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ سید مراد علی شاہ گزشتہ ایک دہائی سے سندھ کے وزیرِ خزانہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
















