کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کراچی کے لیے 100 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے شہر میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی آب، انفراسٹرکچر اور شہری سہولتوں کے متعدد نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر 816 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی لاگت 644.3 ارب روپے ہے۔
کراچی کے لیے 100 ارب سے زائد مختص
شہر کے لیے رواں مالی سال میں 100 ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ 500 ملین روپے سے زائد لاگت کے 167 بڑے منصوبے اور ایک ارب روپے سے زائد لاگت کے 110 میگا منصوبے جاری ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ گریٹر کراچی سیوریج پلان (S-III) پر 32 ارب روپے سے زائد لاگت سے کام جاری ہے جب کہ منصوبے کے تسلسل کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے لیے 4.37 ارب روپے جب کہ کراچی کی مختلف ترقیاتی اسکیموں سمیت 822 منصوبوں کے لیے 108.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبے
بجٹ میں کراچی کے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ کراچی ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ تک 1.2 ارب روپے کی لاگت سے نیا فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا جب کہ ملیر ہالٹ سے شارع فیصل تک 1.5 ارب روپے کی لاگت سے رائٹ ٹرن انڈرپاس بنایا جائے گا۔
گجر نالہ پر سر شاہ سلیمان روڈ کراسنگ فلائی اوور کے لیے 1.65 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ شاہراہ بھٹو اور کورنگی کازوے جنکشن منصوبے کے لیے 15 کروڑ 90 لاکھ روپے اور عظیم پورہ انٹرسیکشن فلائی اوور سمیت شاہ فیصل روڈ منصوبے کے لیے 10 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نالوں کی تعمیر اور بحالی
انہوں نے کہا کہ بڑے برساتی نالوں کی تعمیر اور بحالی کے تیسرے مرحلے کے لیے ایک ارب روپے، گجر نالہ کی بحالی اور سروس روڈز کی تعمیر کے لیے ایک ارب 10 کروڑ روپے جب کہ ایم نائن سے تھدو نالہ تک اسٹورم واٹر ڈرین منصوبے کے لیے 28 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صدر ٹاؤن کی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 31 کروڑ 94 لاکھ روپے جب کہ شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے تک نئی رابطہ سڑک کی تعمیر کے لیے 70 کروڑ 38 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صفائی کا نظام
شہر میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 6 جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کے قیام پر 166 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے جب کہ سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروگرام کے لیے 9 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔
جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائٹس کی اپ گریڈیشن کے لیے 118 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
پانی کی فراہمی کے منصوبے
پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے تحت کے فور منصوبے سے منسلک واٹر سپلائی سسٹم کی توسیع کے لیے 57 کروڑ 52 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ضلع شرقی اور وسطی کے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کے لیے ایک ارب روپے جب کہ لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ نئی واٹر سپلائی لائن کے منصوبے کے لیے 127 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے مرکزی واٹر ٹرنک مین سسٹم کی مرمت اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں گے جب کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ فیز ٹو اور کے فور واٹر سپلائی منصوبے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کا شعبہ
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ آئندہ تین ماہ کے دوران 25 ڈبل ڈیکر بسیں کراچی کی سڑکوں پر آجائیں گی جو روزانہ 30 سے 35 ہزار مسافروں کو سفری سہولت فراہم کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ پنک بس سروس کی توسیع جاری رہے گی جب کہ شہر میں الیکٹرک بسوں کے بیڑے میں مزید 100 بسیں شامل کی جائیں گی۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ گرین لائن، اورنج لائن اور پیپلز بس سروس میں آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے۔ کراچی ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے لیے 13.2 ارب روپے جب کہ یلو لائن بی آر ٹی کوریڈور کے لیے 3.5 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے لیے بجٹ رکھا گیا ہے جبکہ جدید فرانزک لیبارٹری اور فرانزک سائنس ایجنسی کے قیام پر بھی کام تیز کیا جائے گا۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اہم منصوبے شامل
صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے بھی اہم منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ سندھ انفیکشیس ڈیزیز اسپتال کراچی کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ این آئی سی وی ڈی میں بچوں کے امراض قلب یونٹ کے لیے 1.4 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
کراچی میں نئے میڈیکل کالج کے قیام، کراچی ایجوکیشن کمپلیکس، بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج لیاری اور شہید ذوالفقار علی بھٹو لا یونیورسٹی کے لیے بھی ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر، مؤثر ٹرانسپورٹ نظام، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے منصوبوں کو ترجیح دی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق 60.7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہ بھٹو شہر کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی لا رہی ہے جس سے سفر کا دورانیہ کم ہوکر تقریباً 25 منٹ رہ گیا ہے جب کہ روزانہ 25 ہزار گاڑیاں اس شاہراہ سے استفادہ کررہی ہیں۔
















