سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج دو بجے طلب کر لیا گیا ہے، جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کریں گے۔ نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ کا حجم 4 ہزار ارب روپے کے قریب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بجٹ اجلاس سے قبل سندھ کابینہ کا اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں ضمنی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، جبکہ بجٹ سیشن پانچ روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ آئندہ ہفتے بجٹ کی منظوری متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کم از کم اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے اور اس میں 5 ہزار روپے اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
بجٹ اجلاس کا وقت پنجاب بجٹ کے بعد رکھا گیا ہے جبکہ محکمہ خزانہ بجٹ کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ وفاقی سطح پر تنخواہوں میں اضافے کے بعد سندھ حکومت کو مالی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے مزدور دوست بجٹ پیش کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق سندھ کے مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ رواں مالی سال مجموعی ترقیاتی پروگرام کا حجم 1018 ارب روپے تھا، جبکہ آئندہ سال اسے کم کرکے 720 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے لیے 522 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ 520 ارب روپے تھا۔
غیر ملکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 296 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 367 ارب روپے تھی۔
پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے 50 سے 60 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ رواں سال یہ 76 ارب روپے تھا۔
ضلعی سالانہ ترقیاتی پروگرام (DADP) کے لیے 50 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ رواں سال یہ 55 ارب روپے تھا۔
بڑے مالی فیصلے اور کٹوتیاں
ذرائع کے مطابق صوبے کے غیر ترقیاتی اخراجات 2560 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ مجموعی طور پر ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 300 ارب روپے کی کٹوتی کی جا رہی ہے۔
صوبائی ترقیاتی بجٹ 520 ارب سے کم کرکے 385 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ضلعی ترقیاتی بجٹ میں بھی 40 ارب روپے کی کٹوتی کی جا رہی ہے۔
ضلعی سطح پر ترقیاتی اسکیموں کے لیے صرف 15 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ رواں مالی سال یہ 55 ارب روپے تھا۔
ترقیاتی اسکیموں سے متعلق صورتحال
ذرائع کے مطابق سندھ بھر میں کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ مجموعی طور پر 3642 جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 400 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے 64 ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ اور عالمی مالیاتی اداروں سے 256 ارب روپے کی امداد ملنے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ آئندہ مالی سال کا بجٹ اسمبلی میں پیش کریں گے، جس کے بعد حتمی منظوری کا عمل شروع ہوگا۔

















