پاکستان ریلوے نے اپنی تاریخ کی ایک اہم پیش رفت میں پانچ بڑی مسافر ٹرینوں کی کمرشل مینجمنٹ نجی شعبے کے سپرد کر دی ہے جسے حکام ایک بڑی اصلاحاتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
وفاقی وزارت ریلوے کے مطابق عوام ایکسپریس، ملت ایکسپریس اور قراقرم ایکسپریس سمیت مجموعی طور پر پانچ ٹرینوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت ان ٹرینوں کی کمرشل مینجمنٹ تقریباً 11 ارب روپے میں نجی شراکت داروں کو دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل انہی ٹرینوں سے تقریباً 8 ارب روپے آمدن حاصل ہو رہی تھی تاہم نئے ماڈل کے تحت ریونیو میں واضح اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح میانوالی اور نارووال پسنجر ٹرینوں کو بھی نجی شراکت داری کے تحت بہتر سہولیات اور مؤثر آپریشنز کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کامیاب آؤٹ سورسنگ پر کمرشل اینڈ مارکیٹنگ (سی سی ایم) اور ریلوے ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ریلوے کی مالی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ان کے مطابق اس سے قبل فریٹ ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ بھی بہتر ریٹس پر کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آئندہ مالی سال میں 10 ارب روپے سے زائد اضافی آمدن کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ریلوے اس سال پہلی بار ایک کھرب روپے سے زائد ریونیو حاصل کرنے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری ہے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
















