کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی 800 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے غیر قانونی الاٹمنٹس کی منسوخی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردیں اور نیب کی جانب سے کی گئی کارروائی کو قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے 18 جون 2026 کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ متنازع اراضی کی الاٹمنٹ ابتدا ہی سے غیر قانونی تھی، لہٰذا اس بنیاد پر حاصل کیے گئے حقوق برقرار نہیں رہ سکتے۔ عدالت نے نیب کی سفارش پر کی گئی منسوخیوں کو بھی درست قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ کراچی کی 800 ایکڑ قیمتی شہری سرکاری زمین سے متعلق تھا جو 1990 کی دہائی کے اوائل میں مبینہ طور پر جعلی ’’ایویکیو پراپرٹی‘‘ دعوؤں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے نجی افراد کے نام منتقل کردی گئی تھی۔
بعد ازاں اس اراضی کے مختلف حصے فروخت کیے گئے جب کہ زمین کا کچھ حصہ کراچی کو پانی فراہم کرنے والے اہم تنصیبات اور عوامی پارکس کے لیے مختص تھا۔
نیب کے مطابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ اور ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر کی ہدایت پر ادارے نے سندھ بورڈ آف ریونیو کے ساتھ مل کر کارروائی کی اور ریکارڈ میں کی گئی مبینہ جعلی اندراجات منسوخ کرا کے زمین دوبارہ ریاستی تحویل میں واپس دلائی۔
نیب کی کارروائی کے بعد الاٹمنٹ سے فائدہ اٹھانے والے افراد نے سندھ ہائیکورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کیں اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں سنے بغیر کارروائی کی گئی اور وہ نیک نیتی سے زمین خریدنے والے فریق ہیں۔
تاہم عدالت نے درخواست گزاروں کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ غیر قانونی بنیاد پر حاصل کی گئی ملکیت قانونی تحفظ کی حقدار نہیں ہوسکتی۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر خریداروں کے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو وہ زمین فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں، ریاست کے خلاف نہیں۔
نیب کے ترجمان نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی آبی تنصیبات اور عوامی پارکس عوام کی ملکیت ہیں اور دھوکے یا جعلسازی کے ذریعے حاصل کی گئی ہر انچ سرکاری زمین کو واپس لیا جائے گا۔
















