وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ڈاکٹر آکاش کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور صوبائی وزیر گیان چند ایسرانی بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر آکاش کے چچا ٹہل رام نے وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ کو واقعے کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
ٹہل رام نے کہا کہ ڈاکوؤں نے ہمارا گھر اجاڑ دیا ہمارا نوجوان بچہ قتل کر دیا، ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ قاتلوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے حکومت سندھ اقلیتی برادری کے ساتھ کھڑی ہے۔ ڈاکٹر آکاش کے قاتل قانون کی گرفت میں ہوں گے اور انہیں سزا دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے جبکہ اقلیتی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اہلخانہ کو بتایا کہ پولیس قاتلوں تک پہنچ چکی ہے اور اگلے 12 سے 14 گھنٹوں میں لٹیروں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
آئی جی سندھ کے مطابق واردات کے فوری بعد ناکہ بندی کی گئی تھی جبکہ بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر اہم شواہد بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔


















