وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر فوری اقدامات کرنے کا حکم دے دیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس ہوا، جس میں معاشی صورتحال، ایندھن کی فراہمی اور مستقبل کے چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزرا احد چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، اویس لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات ملکی معیشت پر پڑنے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے تمام اداروں کو ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح ماضی میں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم میں عوام نے تعاون کیا، اسی جذبے کے تحت قومی سطح پر بھی احتیاطی اقدامات اپنانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر انتظامات کیے ہیں، جبکہ عام شہریوں، موٹر سائیکل سواروں، رکشا ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار رکھی جائے اور ضرورت پڑنے پر فوری اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل میں ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرکے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
















