اسلام آباد: وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش ہے، سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے، فریقین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ چند روز کی نسبتاً پرامن صورتحال کے بعد خطے میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کی حمایت کرتا ہے اور فریقین کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی جانب دوبارہ لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے بھی متعلقہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
طاہر اندرابی نے بتایا کہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان بھی خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے اپنے اردنی ہم منصب سے بھی فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کی۔
ترجمان نے کہا کہ کویتی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ اسلام آباد خطے اور دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم نے دفاعی معاہدے کی توثیق پر کویت کا شکریہ ادا کیا، جبکہ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے دوران متعدد اہم ملاقاتیں کیں جن میں امریکی کانگریس کے وفد اور تجارتی وفد سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔
فلسطین کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ سے بھی فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کی، جبکہ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں انسانی امداد کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ مشاورت کا اجلاس بھی ورچوئلی منعقد ہوا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے سعودی عرب پر نان اسٹیٹ ایکٹرز کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوگا۔
کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کارگل کے معاملے پر اپنا مؤقف متعدد بار واضح کر چکا ہے اور یہ معاملہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق ریاست جموں و کشمیر کے علاقوں پر بھارتی قبضے کو معمول کا حصہ ظاہر کرنا یا اسے کسی بھی قسم کا قانونی جواز دینا ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے ہی مسئلہ کشمیر کا واحد پائیدار حل ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز کا استعمال آج بھی جاری ہے، جس کی نشاندہی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اپنی رپورٹس میں کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے خلاف پیلٹ گنز کا استعمال جہاں بھی ہو، قابل مذمت ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات معمول کے آئینی عمل کا حصہ ہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد یونیفارم نہیں پہنتے۔ انہوں نے پاکستانی کارروائیوں میں سویلین ہلاکتوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے ماسٹر مائنڈز کو نشانہ بناتا ہے اور آئندہ بھی بناتا رہے گا۔














