Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مسائل حل نہیں ہورہے، گڈ گورننس کے لیے کچھ تو کرنا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر

‘رواں سال ملک بھر میں 40 ہزار 348 آپریشنز کیے گئے جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک ہوئے’

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے کہا کہ سیکیورٹی کے لیے گڈگورننس انتہائی اہم ہے جب کہ پاکستان میں مسائل حل نہیں ہورہے، گڈ گورننس کے لیے کچھ تو کرنا ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے آغاز میں کہا کہ آج کی بریفنگ کا مقصد سیکیورٹی سے متعلق امور پر آگاہ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن میں 2 ہزار 84 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جب کہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 آپریشنز کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ 2026 کے دوران بم دھماکوں کے 28 واقعات پیش آئے اور گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی گئیں۔ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے اور تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہی دیکھے جائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا دہشت گردوں کو اب سمجھ آچکا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، انہیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا انہیں ختم کردیا جائے گا۔ زیادہ تر دھماکوں میں افغان باشندے ملوث پائے گئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہتے ہیں کہ ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور پاکستان ہی ہماری پہلی اور آخری پہچان ہے۔ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر ملوث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ایسی ریاست ہے جہاں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق چلائے جائیں جب کہ دہشت گردی کے خلاف شدت سے کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کچھ جماعتیں حقوق کی بات کرتی ہیں تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اپنے فرائض سے آگاہ ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 5 واضح کرتا ہے کہ وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔ معرکۂ حق میں حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد بلوچستان پر توجہ مرکوز کی گئی جب کہ فیلڈ مارشل نے چند روز قبل اس حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کو سپورٹ کررہی ہے، بعض عناصر لیویز فورس کو اپنی ذاتی فورس سمجھتے ہیں، انہیں اپنے گھروں کی چوکیداری کے لیے لیویز چاہیے جب کہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل کی اسمگلنگ بھی کرتے ہیں۔ انہیں روکا جائے تو دہشت گردی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشت گردی ہے جب کہ بلوچستان کے عوام ہی وہاں کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے پروپیگنڈا بھی ناکام ہوچکا ہے، کمیشن کو بلوچستان سے 2 ہزار 933 کیسز موصول ہوئے جب کہ مختلف لاپتہ افراد بعد ازاں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے گئے اور آپریشنز میں ہلاک ہونے والے حملہ آوروں میں بھی اکثر ایسے افراد شامل ہوتے ہیں۔

انہوں نے بلوچستان کے جغرافیے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا رقبہ 3 لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ ہے۔ بلوچستان کی سرزمین سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، اس لیے زمینی حقائق کو سمجھے بغیر تبصرے نہیں کیے جا سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان میں پولیس اور لیویز کے خلاف 105 واقعات پیش آئے جن میں 178 اہلکار شہید ہوئے، 55 افراد کو اغوا کیا گیا جب کہ 24 پل تباہ کیے گئے۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بلوچستان میں دہشت گردی سے متعلق مختلف شواہد میڈیا کے سامنے پیش کیے۔ شہید پولیس اہلکاروں کو پاک فوج اور صحافیوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا گیا جب کہ دہشت گردوں سے منسلک خواتین کے اہل خانہ کے لاتعلقی کے بیانات، دہشت گردی سے متاثرہ شہریوں کے حالات، غیور بلوچوں کے پاکستان سے محبت کے اظہار اور مبینہ پروپیگنڈے سے متعلق مواد بھی میڈیا کو دکھایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی 300 سے زائد بوگس ویب سائٹس بلوچستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں جو مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے نفرت اور تقسیم کو فروغ دیتی ہیں۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کو کامیابی سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دہشت گرد خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بی ایل اے میں شامل کرتے ہیں جب کہ چھوٹی بچیوں کو دھمکا کر اور بلیک میل کرکے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے جنوری میں کوئٹہ، 30 مارچ کو جھل مگسی، قلات کے خالق آباد، 24 اپریل کو ڈھاڈر اور 16 جولائی کو کھڈ کوچہ میں ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کے فوراً بعد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بیانیہ بنایا گیا ج بکہ پاکستان میں بھی ایک گروپ بغیر تحقیق اس بیانیے کا حصہ بن جاتا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کہتے ہیں سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز اور دہشت گردوں کی کارروائیوں میں واضح فرق ہے کیونکہ فورسز کارروائیوں کے دوران ویڈیو کیمرے لے کر نہیں جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ اور دہشت گردی کا آپس میں گہرا تعلق ہے جس کے خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات کیے جارہے ہیں۔ رواں سال اب تک 18 ارب روپے مالیت کی منشیات پکڑی جاچکی ہیں اور 4 ہزار 500 افراد گرفتار کیے گئے ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔ صوبے میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے، پانی کے نئے ذخائر، نہریں، شاہراہیں، صحت اور تعلیم کے منصوبے زیر تعمیر ہیں اور ان کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنقید افغان عوام پر نہیں بلکہ طالبان رجیم پر ہے۔ طالبان رجیم کے دور میں افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں جب کہ انہوں نے طالبان کے طرز عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ محسن نقوی نے ذاتی حیثیت میں بیان دیا، اس پر وہ بات نہیں کریں گے۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات ہیں، گڈ گورننس پاکستان کے لیے ناگزیر ہے اور اس پر کام کرنا ہوگا۔

کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر ایک اٹوٹ انگ ہیں، پاکستان کشمیر کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا۔ پاکستان سے آج بھی آواز اٹھتی ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان جب کہ کشمیری بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام بچے برابر ہیں لیکن کشمیر سب سے لاڈلا ہے اور وسائل کی تقسیم میں بھی کشمیر کو زیادہ حصہ ملتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے عناصر کا ایجنڈا قبول کیا جاسکتا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم ڈھارہے ہیں۔

آزاد کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہاں کے معاملات سے فوج کا تعلق نہیں، یہ آزاد کشمیر کی حکومت اور پولیس کا دائرہ اختیار ہے۔ کشمیریوں کا فیصلہ واضح ہے جب کہ بھارت مختلف اوقات میں پہلگام اور پلوامہ جیسے واقعات کا بیانیہ بناتا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حقوق کے نام پر ایک کھیل کھیلا گیا جس کے مقاصد اب سامنے آچکے ہیں جب کہ 12 نشستوں کے معاملے پر بھی بعض عناصر کا ایجنڈا واضح ہوا ہے۔ پونچھ اور راولاکوٹ کے بہادر لوگوں کی داستانیں سب نے سنی ہیں۔

متعلقہ خبریں