اسلام آباد: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے سابق چیئرمین مرحوم پرویز بٹ کی یاد میں منعقدہ خصوصی تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ’’خاموش ہیرو‘‘ قرار دیا۔
اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تعزیتی ریفرنس کا اہتمام سینیٹر مشاہد حسین سید نے کیا جس میں مرحوم پرویز بٹ کے اہلِ خانہ، دوستوں، ساتھیوں، مداحوں، سابق عسکری حکام، سائنس دانوں، انجینئرز، ٹیکنیشنز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پرویز بٹ ایک مخلص، باصلاحیت اور انتہائی پیشہ ور شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے وقف کردی۔ پرویز بٹ ایٹمی منصوبے کے ’’خاموش ہیرو‘‘ تھے کیونکہ وہ کبھی ذاتی تشہیر یا شہرت کے خواہاں نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کامیابی میں پانچ اہم شخصیات کا بنیادی کردار رہا جن میں ذوالفقار علی بھٹو، غلام اسحاق خان، جنرل ضیاء الحق، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور منیر احمد خان شامل ہیں۔
سینیٹر مشاہد حسین سید کے مطابق پرویز بٹ اور ڈاکٹر اشفاق احمد بھی ان اہم سائنس دانوں میں شامل تھے جنہوں نے ایٹمی منصوبے پر ہونے والے فیصلوں پر مسلسل عملدرآمد کو یقینی بنایا اور 1979 میں چاغی کو ایٹمی دھماکوں کے مقام کے طور پر منتخب کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں ماضی کے چند اہم واقعات کا بھی ذکر کیا۔ 1979 میں امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کیا جب کہ بعد ازاں امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود بھی پاکستان اپنے قومی مؤقف پر قائم رہا۔
انہوں نے بھارتی قومی سلامتی کے سابق مشیر شیو شنکر مینن کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت نے خطے میں طاقت کے توازن اور بھارتی پالیسی پر بھی اثر ڈالا۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر رضا علی انور نے کہا کہ پرویز بٹ ایٹمی سائنس دانوں اور انجینئرز کے لیے بہترین رہنما اور حقیقی رول ماڈل تھے جو اپنی عملی مثال سے قیادت کرتے تھے۔
معروف صحافی و اینکر حامد میر نے کہا کہ پرویز بٹ اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں جن کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
پرویز بٹ کی صاحبزادی ڈاکٹر شہزادہ بٹ نے اپنے والد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مثالی والد، شوہر اور دادا تھے جنہوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خاندانی زندگی کے درمیان ہمیشہ بہترین توازن قائم رکھا۔
تعزیتی ریفرنس کی صدارت ڈاکٹر اکرم شیخ نے کی۔ انہوں نے پرویز بٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیرمتزلزل عزم اور پاکستان کی جوہری دفاعی صلاحیت کی تعمیر میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ’’ایک نایاب انسان‘‘ قرار دیا۔ تقریب کے اختتام پر انٹرنیشنل پارلیمنٹیرینز کانگریس کی سیکرٹری سینیٹر ستارہ ایاز نے اظہارِ تشکر کیا۔
















