وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے ساتھ ہی سرکاری ادارے کو ختم (لیکویڈیٹ) کرنے کا سابقہ فیصلہ عملا واپس لے لیا گیا ہے کیونکہ متعدد بین الاقوامی فریقوں نے اس بند پڑے اسٹیل پلانٹ کی بحالی میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، جدیدکاری اور تنظیمِ نو کے لیے روسی کمپنی انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی کے ساتھ مشاورت کا آغاز کیا۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار کے تحت روس کی انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی اور پاکستان اسٹیل ملز کے درمیان پہلے ہی دو پروٹوکول پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
پہلا پروٹوکول 10 جولائی 2025 کو ماسکو میں طے پایا، جس میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی، جدیدکاری اور تنظیمِ نو میں تعاون شامل ہے جبکہ دوسرا پروٹوکول 26 نومبر 2025 کو پاک روس بین الحکومتی کمیشن کے دسویں اجلاس کے دوران طے پایا، جس کا مقصد اسٹیل کی پیداوار کے لیے آپریشنل اور سرمایہ جاتی اخراجات کا تعین کرنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیداواری لاگت کا تعین اور مارکیٹ میں منصوبے کی عملداری کا جائزہ لینے کے لیے بھی ایک مشق مکمل کی گئی جس کے نتائج کی بنیاد پر پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام سرکاری اداروں (ایس او ایز) سے متعلق کابینہ کمیٹی کو سفارشات پیش کریں گے تاکہ پاکستان اسٹیل ملز کی لیکویڈیشن کا عمل روکا جا سکے کیونکہ امید ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے تعاون سے اس ادارے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے گا۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے مئی 2024 میں پاکستان اسٹیل ملز کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ بعد ازاں اگست 2024 میں کابینہ کمیٹی برائے رائٹ سائزنگ نے اس کی لیکویڈیشن کی منظوری دے دی تھی۔















