راولپنڈی: شوہر اور ملازم کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والی حنا جاوید کے قتل کے کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پولیس گرفتار ملزمان کو مزید فرانزک کارروائی کے لیے لاہور فرانزک لیب لے کر روانہ ہوگئی۔ گرفتار ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے جبکہ ان سے حاصل ہونے والے نمونوں کا جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے موازنہ کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق لاہور میں ملزمان کے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرائے جائیں گے جن کے ذریعے ملزمان کے بیانات اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی مزید جانچ کی جائے گی۔
حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان پولیس کی حراست میں ہیں۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا جس کی مدت مکمل ہونے پر انہیں کل دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے دیگر نتائج کی روشنی میں کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے تھے۔
پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹس اور دیگر شواہد کی روشنی میں قتل کے محرکات اور واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
















