چکوال: تھانہ لاوہ کی حدود میں 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں متاثرہ بچی کے ماموں نے الزام عائد کیا ہے کہ دندہ شاہ بلاول میں پیر نے اسلحے کے زور پر بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور واقعہ کسی کو بتانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
موسیٰ خیل تحصیل و ضلع میانوالی کے رہائشی درخواست گزار عزیز جہان ولد نور خان نے تھانہ لاوہ میں درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بھانجا واثق نواز اور 12 سالہ بھانجی نازش بی بی وقوعے کے روز دم کروانے کے لیے دندہ شاہ بلاول میں پیر سید عبداللہ شاہ کے ڈیرے پر گئے تھے۔
درخواست کے مطابق دونوں بچے دن بھر پیر کے ڈیرے پر موجود رہے، جہاں پیر نے انہیں بتایا کہ دم شام کے وقت ہوگا تاہم شام گزرنے کے بعد رات ہوگئی۔
درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ رات کا کھانا کھانے کے بعد پیر نے اس کے بھانجے کو ایک الگ کمرے میں سلا دیا جب کہ 12 سالہ بچی کو دوسرے کمرے میں سلایا گیا۔
عزیز جہان کے مطابق رات تقریباً 2 بجے پیر سید عبداللہ شاہ مبینہ طور پر پسٹل لے کر بچی کے کمرے میں داخل ہوا اور اسلحے کے زور پر اس کے ساتھ زیادتی کی۔
درخواست گزار نے بتایا کہ مبینہ ملزم نے بچی کو دھمکی دی کہ اگر اس نے واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اسے جان سے مار دیا جائے گا۔
درخواست میں لکھا ہے کہ بچی نے بعد ازاں اپنی والدہ اور ماموں کو مبینہ واقعے سے آگاہ کیا جس کے بعد اہلخانہ بچی کو ہمراہ لے کر پولیس کے پاس پہنچے اور ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے جب کہ متاثرہ بچی کا طبی معائنہ بھی کروایا جارہا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔














