کراچی: سندھ حکومت نے نجی اسکولوں میں طلبہ اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فائر سیفٹی کے جامع اقدامات پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کردی ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق نجی اسکولوں میں ایمرجنسی کی صورت میں محفوظ انخلا کے لیے تمام راستے اور سیڑھیاں ہر وقت کھلی رکھنے کی پابندی ہوگی۔
اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ سال میں کم از کم دو مرتبہ فائر ڈرل کرائی جائے تاکہ طلبہ اور عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
ہدایت نامے کے تحت ہر اسکول میں فائر ایویکیویشن پلان اور فلور میپس نمایاں مقامات پر آویزاں کیے جائیں گے جب کہ ایمرجنسی کی صورت میں طلبہ اور عملے کے جمع ہونے کے لیے اسمبلی پوائنٹ بھی مقرر کرنا لازمی ہوگا۔
اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو فائر سیفٹی اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری اور مؤثر اقدامات کیے جاسکیں۔
خصوصی بچوں اور دیگر کمزور طلبہ کے محفوظ انخلا کے لیے بھی خصوصی انتظامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سندھ حکومت نے اسکولوں کے بجلی کے نظام، لیبارٹریز اور کچن کی باقاعدہ جانچ کو بھی لازمی قرار دیا ہے تاکہ آگ لگنے کے ممکنہ خطرات کو بروقت روکا جاسکے۔
ہدایت کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے کلیئرنس ملنے تک طلبہ اور عملے کو اسکول کی عمارت میں دوبارہ داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ فائر سیفٹی سے متعلق ہدایات اور حفاظتی پروٹوکول پر عملدرآمد نہ کرنے والے نجی اسکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی


















