مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث نوکریوں کے خاتمے کے خدشات کے درمیان ماہرین نے ایک نئے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی ملازمین کے ذہنی سکون اور کام کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے اے آئی پر مبنی خودکار نظام متعارف کرائے جا سکتے ہیں جو ملازمین کی مسلسل نگرانی، کارکردگی کی جانچ اور بار بار ہدایات و یاددہانیوں کے ذریعے کام کے دباؤ میں اضافہ کریں گے۔
دوسری جانب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت نوکریاں ختم کرنے کے بجائے نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ تاہم این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی معاون نظام ملازمین کو پہلے سے زیادہ مصروف اور ذہنی دباؤ کا شکار بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کا نیا دور شروع؛ سام سنگ کا گلیکسی ایس 26 متعارف
ماہرین کے مطابق اگر کارکنوں کو مسلسل ہدایات، تنبیہات اور یاددہانیاں موصول ہوتی رہیں تو اس سے ذہنی تھکن، بے دلی اور کام سے اکتاہٹ جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین نے اس خدشے کو “ڈیجیٹل مائیکرو مینیجر” کا نام دیا ہے جس سے مراد ایسا خودکار نظام ہے جو حد سے زیادہ مداخلت کرتے ہوئے ملازمین کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قلیل مدت میں بعض شعبے متاثر ہو سکتے ہیں تاہم طویل مدت میں نئی مہارتیں حاصل کرنے والے افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں ملازمین کے تحفظ کے لیے “کام سے رابطہ منقطع کرنے کے حق جیسے قوانین متعارف کرانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ مسلسل ڈیجیٹل نگرانی کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔



















