Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وی پی این استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنی آن لائن حفاظت کے لیے وی پی این پر بھروسہ کرتے ہیں

وی پی این کو آن لائن پرائیویسی کا محافظ سمجھنے والے صارفین کے لیے تشویشناک خبر سامنے آگئی۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کئی مشہور وی پی این ایپس خود صارفین کی حساس معلومات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں جبکہ متعدد ایپس بنیادی سیکیورٹی معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔

انٹرنیٹ پر شناخت چھپانے اور ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی وی پی این ایپس کے حوالے سے نئی تحقیق نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یونیورسٹی آف مشی گن انجینئرنگ کی تحقیق کے مطابق کئی معروف موبائل وی پی این ایپس صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

تحقیق میں ماہرین نے MVPNalyzer نامی ایک جدید فریم ورک تیار کیا، جس کے ذریعے بڑی تعداد میں موبائل وی پی این ایپس کی سیکیورٹی کا خودکار تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق نیٹ ورک اینڈ ڈسٹری بیوٹڈ سسٹم سیکیورٹی (NDSS) 2026 سمپوزیم میں پیش کی گئی۔

ماہرین نے اینڈرائیڈ کی 281 مقبول وی پی این ایپس کا جائزہ لیا، جس میں انکشاف ہوا کہ 29 ایپس صارفین کی ڈی این ایس معلومات اور براؤزر ٹریفک لیک کر رہی تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح وی پی این استعمال کرنے کا بنیادی مقصد یعنی آن لائن پرائیویسی متاثر ہو جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 فیصد سے زائد وی پی این ایپس انٹرنیٹ ڈیٹا کو بغیر مناسب انکرپشن کے منتقل کر رہی تھیں جبکہ 60 فیصد سے زیادہ ایپس میں بنیادی حفاظتی اقدامات بھی موجود نہیں تھے جس سے صارفین سائبر حملوں کا شکار بن سکتے ہیں۔

تحقیق کی سینئر مصنفہ اور یونیورسٹی آف مشی گن کی کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رویا انصافی نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اپنی آن لائن حفاظت کے لیے وی پی این پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن کئی ایپس ضروری سیکیورٹی معیار پورا نہیں کر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق کا مقصد صارفین، ریگولیٹرز اور ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد دینا ہے کہ وی پی این ایپس حقیقت میں کس طرح کام کر رہی ہیں، تاکہ بہتر اور محفوظ فیصلے کیے جا سکیں اور صنعت کو سیکیورٹی معیار بہتر بنانے پر مجبور کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں