پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں براڈ بینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے رواں سال ضلعی سطح پر انٹرنیٹ سروسز کے 47 کلاس لائسنس جاری کر دیے ہیں۔
پی ٹی اے کی دستاویزات کے مطابق فروری 2026 میں ضلع کی سطح کا پہلا انٹرنیٹ کلاس لائسنس جاری کیا گیا جس کے بعد ضلعی سطح پر لائسنسنگ کے عمل میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔
دستاویزات کے مطابق مارچ 2026 کے دوران 12 نئے ضلعی انٹرنیٹ کلاس لائسنس جاری کیے گئے جبکہ مئی میں مزید 14 لائسنس فراہم کیے گئے۔ جون 2026 میں سب سے زیادہ 20 ضلعی سطح کے انٹرنیٹ کلاس لائسنس جاری کیے گئے جو ایک ریکارڈ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق لاہور ضلع میں سب سے زیادہ 7 انٹرنیٹ کلاس لائسنس جاری کیے گئے جبکہ ضلعی سطح پر درخواستوں کے حوالے سے سرگودھا دوسرے نمبر پر رہا۔ فیصل آباد اور اسلام آباد میں چار، چار ضلعی انٹرنیٹ کلاس لائسنس جاری کیے گئے۔
پی ٹی اے نے جنوبی وزیرستان اور لوئر چترال جیسے نسبتاً کم سہولت یافتہ علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کلاس لائسنس جاری کیے ہیں جسے ملک میں ڈیجیٹل شمولیت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ نئے لائسنسوں کے اجرا سے انٹرنیٹ سروسز کے شعبے میں مسابقت میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں آخری صارف تک بہتر اور معیاری انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
ادارے کے مطابق ضلعی سطح پر لائسنسنگ کے اس اقدام سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل رابطوں کو فروغ ملے گا جبکہ مقامی سرمایہ کاری، روزگار کے نئے مواقع اور ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔



















