امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان جوز میں واقع ایڈوبے کے مرکزی دفتر کی عمارت پر گزشتہ تین برس سے نصب پراسرار سیمیفور پہیلی بالآخر ایک سافٹ ویئر انجینیئر نے حل کر لی۔
یہ منفرد فن پارہ معروف آرٹسٹ بین روبن نے تخلیق کیا تھا اور مئی 2023 سے ایڈوبے ہیڈکوارٹرز کی چھت پر نصب تھا۔ اس میں چار دائروں کی مختلف سمتوں میں حرکت پر مبنی مسلسل اینیمیشن دکھائی جاتی تھی، جس کا مقصد ایک خفیہ پیغام پہنچانا تھا، تاہم کئی برس تک ٹیکنالوجی ماہرین، پروگرامرز اور پزل حل کرنے کے شوقین افراد اس کا راز جاننے میں ناکام رہے۔
رواں سال سافٹ ویئر انجینیئر برائن ونسنٹ نے اینیمیشن کے تمام پیٹرنز کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے معمہ حل کر لیا۔ ان کے مطابق یہ دراصل ایک ایسا کوڈ تھا جو ڈیجیٹل تصویر کے پکسلز کے رنگوں کی نمائندگی کر رہا تھا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس خفیہ کوڈ کا نتیجہ اطالوی مصور سینڈرو بوٹیچیلی کی شہرۂ آفاق پینٹنگ “برتھ آف وینس” میں موجود ایک گلاب کی تصویر کی صورت میں سامنے آیا۔
ایڈوبے کی جانب سے جاری ویڈیو میں برائن ونسنٹ نے بتایا کہ یہ پہیلی بظاہر سادہ دکھائی دیتی تھی، لیکن اسے حل کرنے کے لیے غیر معمولی محنت، باریک بینی اور مسلسل تجزیے کی ضرورت تھی، یہی وجہ ہے کہ اس کا راز کھلنے میں تقریباً تین سال لگ گئے۔
یہ سان جوز سیمیفور سیریز کی تیسری پہیلی تھی۔ اس سے قبل تقریباً 20 سال پہلے نصب کیے گئے پہلے سیمیفور میں امریکی ناول نگار تھامس پنچن کے ناول “دی کرائنگ آف لوٹ 49” کا مکمل متن خفیہ انداز میں چھپایا گیا تھا، جبکہ دوسرے معمہ میں خلا باز نیل آرمسٹرانگ کی چاند پر اترنے کے تاریخی الفاظ محفوظ کیے گئے تھے۔
ایڈوبے نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی عمارت پر ایک نیا سیمیفور معمہ نصب کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق اس نئی پہیلی کو سب سے پہلے حل کرنے والے شخص کو دو سال کے لیے اڈوبے کریئٹوکلاؤڈ کا مفت سبسکرپشن انعام میں دیا جائے گا، جس کے بعد ٹیکنالوجی اور پزل سے دلچسپی رکھنے والے افراد میں نئے چیلنج کے لیے خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔




















