Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انتہائی حقیقت سے قریب چینی روبوٹک سر لوگوں کو خوفزدہ کرنے لگا

روبوٹ انسانی چہرے کے نہایت باریک اور واضح تاثرات کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

چینی روبوٹکس اسٹارٹ اپ آہیڈ فارم نے ایک ایسا ہیومنائیڈ روبوٹک سر تیار کیا ہے جو اپنی غیرمعمولی حد تک حقیقی انسانی شکل و حرکات کی وجہ سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر رہا ہے۔

آہیڈ فارم کی بنیاد 2024 میں انجینئر یوہانگ ہو  نے رکھی تھی جو نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے معروف کریٹو مشین لیب سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ کمپنی کا مقصد انسان اور مشین کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنا ہے۔

کمپنی نے حال ہی میں اپنا جدید ترین روبوٹک سر اوریجن ایم ون متعارف کرایا جو انسانی چہرے کے نہایت باریک اور واضح تاثرات کی نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ روبوٹ بھنویں چڑھانا، ہلکی مسکراہٹ، آنکھیں جھپکنا، نظریں گھمانا اور دیگر قدرتی چہرے کے تاثرات انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کر سکتا ہے۔

چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اوریجن ایم ون کو مختلف انسانی حرکات اور تاثرات کا مظاہرہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جنہیں دیکھ کر کئی صارفین نے اسے “خوفناک حد تک حقیقی” قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انسانی مداخلت کے بغیر روبوٹس کے ذریعے چلنے والا دنیا کا پہلا ہوٹل، افتتاح 2027 میں

روبوٹ کے سلیکون سے بنے چہرے کے نیچے 25 سے 42 انتہائی خاموش برش لیس مائیکرو موٹرز نصب ہیں جو مصنوعی عضلات کو حرکت دے کر انسانی چہرے کے تاثرات پیدا کرتی ہیں۔ ان موٹرز کو درستگی اور باریک حرکت کے حوالے سے انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا جا رہا ہے۔

 اوریجن ایم ون کی آنکھوں میں پوشیدہ کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں جو اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے اور اشیاء کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ روبوٹ میں مائیکروفون اور اسپیکرز بھی موجود ہیں جن کی مدد سے یہ آواز کو سن کر انسانوں سے گفتگو کر سکتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے تیار کیے جانے کے باعث  اوریجن ایم ون کی قیمت بھی غیرمعمولی ہے۔ اس کا جدید ترین ماڈل تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ پاکستانی روپے) میں دستیاب ہے۔

فی الحال یہ روبوٹک سر زیادہ تر تحقیق، نمائش اور ڈویلپمنٹ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اسے مزید جدید بنایا جائے گا۔

آہیڈفارم اس وقت لِپ سنک ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے اور مستقبل میں اپنے روبوٹس کو بڑے لینگویج ماڈلز سے جوڑنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ نہ صرف انسانوں کی بات سمجھ سکیں بلکہ لہجے، جذبات اور چہرے کے تاثرات کے مطابق مناسب ردعمل بھی دے سکیں۔