اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ناکارہ حصہ بدھ کی صبح چاند کی سطح سے ٹکرانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے تاہم سائنسدانوں نے ابھی تک اس ٹکراؤ کی بصری تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق 2025-010D نامی راکٹ اسٹیج نے تقریباً صبح 6 بج کر 35 منٹ پر چاند کے آئن اسٹائن اور بیل کریٹرز کے قریب گرنا تھا۔ ناسا کے سینٹر فار نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز نے اس کے چاند سے ٹکرانے کے امکانات 100 فیصد قرار دیے تھے۔
فلکیات دان بل گرے کے مطابق تقریباً 4 ہزار 900 کلوگرام وزنی راکٹ اسٹیج چاند سے ٹکرانے کے وقت تقریباً 2.43 کلومیٹر فی سیکنڈ (8 ہزار 700 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کر رہا تھا۔
اس تصادم سے تقریباً 14.5 ارب جول توانائی خارج ہونے کا اندازہ ہے، جو تقریباً 3 ٹن ٹی این ٹی کے برابر ہے۔
یہ راکٹ اسٹیج اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا حصہ تھا، جس نے 15 جنوری 2025 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے فائر فلائی ایرو اسپیس کا بلیو گھوسٹ 1 قمری لینڈر روانہ کیا تھا۔ لینڈر کو کامیابی سے چھوڑنے کے بعد راکٹ کا اوپری حصہ زمین کے گرد ایک غیر معمولی مدار میں موجود رہا تاہم کششِ ثقل اور شمسی شعاعوں کے دباؤ نے اس کا راستہ تبدیل کر دیا اور یہ غیر ارادی طور پر چاند کی جانب بڑھ گیا۔
سائنسدانوں کے مطابق چاند پر فضا موجود نہ ہونے کی وجہ سے راکٹ کا حصہ کسی رکاوٹ کے بغیر سطح سے ٹکرایا۔
ناسا کا اندازہ ہے کہ اس سے تقریباً 18 میٹر چوڑا اور 3.7 میٹر گہرا گڑھا بن سکتا ہے جبکہ چاند کی گرد و غبار اور چٹانوں کے ذرات دور تک پھیل سکتے ہیں۔
ناسا نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں۔ ادارے کے مطابق قدرتی شہابیے بھی اسی نوعیت کی توانائی کے ساتھ تقریباً ہر چھ دن بعد چاند سے ٹکراتے ہیں، تاہم انسانی ساختہ اشیا کا چاند سے ٹکرانا انتہائی نایاب واقعہ ہے۔
ناسا کی میٹیورائڈ انوائرمنٹ آفس زمین پر موجود دوربینوں سے اس واقعے کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرے گی، جبکہ لَونر ریکونیسنس آربیٹر اور جنوبی کوریا کے قمری مشن پر نصب شیڈوکیم آلہ ممکنہ طور پر ٹکراؤ سے پہلے اور بعد کی تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ناسا کے مطابق تصاویر روشنی، مدار اور خلائی جہاز کی پوزیشن کے باعث چند دن بعد دستیاب ہو سکتی ہیں۔ جمع کیے گئے ڈیٹا سے سائنسدان چاند کی سطح، ملبے کے پھیلاؤ اور مستقبل کے قمری مشنز کی منصوبہ بندی میں مدد حاصل کر سکیں گے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چاند پر بڑھتی دلچسپی کے باعث زمین اور چاند کے درمیان خطے میں ایسے خلائی ملبے کی تعداد بڑھ رہی ہے جن کی نگرانی مزید ضروری ہو گئی ہے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ وہ اسپیس ایکس کے ساتھ راکٹ اسٹیج کے راستے پر رابطے میں رہا اور خلائی ملبے کے ذمہ دارانہ انتظام کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔




















