بدلتے موسم میں وائرل اِنفیکشن سے بچاؤ کیسے ممکن ہے ؟ جا نئیے


شبین رضاویب ایڈیٹر

14th October, 2020

دنیا بھر میں سال کے آخری مہینوں اکتوبر، نومبر میں ہلکی ٹھنڈ پڑنا شروع ہوجاتی ہے، پاکستان میں بھی سردی کی آمد، آمد ہےاور بدلتے موسم کے سبب بچے ہو ں یا بڑے سب ہی وائرل اِنفیکشن سے متا ثر ہورہے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق موسم کے بدلتے ہی جِلدی انفیکشن، نزلہ، زکام، شدید کھانسی اور بخار جیسی شکایات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

وائرل فلو اور نزلہ زکام کے لیے کوئی مؤثر دوا موجود نہیں ہے مگر اس سے بچنے اور علامات کی شدت میں کمی لانے کے لئے چند احتیاطی تدابیر اپنا کر اپنی صحت کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

بدلتے موسم کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پینا مفید قرار دیا جاتا ہے ، طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ٹھنڈے کے بجائے سادہ یا نیم گرم پانی پینا کا استعمال کا استعمال کیا جائے۔

وائرل یا کسی بھی قسم کے انفیکشن کے دوران پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنے سے نزلہ، زکام کی شدت میں کمی آتی ہے۔

فلو کی وجہ سے ناک مستقل بند ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، تو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھاپ کا استعمال کیا جائے۔

جی ہاں بھاپ لینے سے نہ صرف ناک کھل جاتی ہے بلکہ سینے میں جمے بلغم کو بھی خارج ہونے میں مدد ملتی ہے۔

نیم گرم پانی کے غرارے کرنے سے گلے کی خراشوں، سوجن، بلغم اور سانس لینے میں دشواری میں کمی آ تی ہے، نیم گرم پانی میں اگر تھوڑا سا نمک ملا کر استعمال کیا جائے تو نیم گرم پانی کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔

سردی کے موسم کے آتے ہی سبز چائے کا استعمال بڑھا دینا چاہیے، سبز چائے میں اگر ادرک، لیموں کا رس، دار چینی، لونگ یا اپنی پسند کا کوئی بھی گرم مسالہ شامل کرلیا جائے تو سبز چائے کی افادیت بڑھ جاتی ہے اور اس کے پینے سے مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔

ایک سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی ٹری کا تیل نزلے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، بھاپ لینے کے دوران اگر گرم پانی میں ٹی ٹری آئل شامل کر لیا جائے تو اس ناک جلدی کھل جاتی ہےاور کافی حد تک سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔