امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک جارحانہ نیوز کانفرنس میں ایران کے خلاف سخت ترین مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا “ایک ہی رات میں ایران کو تباہ کر سکتا ہے” اور یہ کارروائی کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ جمعرات کی رات امریکی فوج نے ایران کے اندر ایک خفیہ اور انتہائی حساس آپریشن کرتے ہوئے ایک امریکی پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کیا۔ ان کے مطابق اس مشن میں تقریباً 200 اہلکار شریک تھے اور امریکی طیارے دن کی روشنی میں ایرانی حدود تک گئے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران امریکی فوجیوں کو شدید فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ کچھ طیاروں کو نقصان پہنچا، مگر انہیں چند منٹوں میں دوبارہ فعال کر لیا گیا، جبکہ دو کارگو طیاروں کو ریت میں پھنسنے کے باوجود اڑانے کو ترجیح دی گئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید الزام عائد کیا کہ ایک دوسرے پائلٹ کی معلومات ایران تک لیک کی گئیں، جسے انہوں نے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو تلاش کر کے سخت کارروائی کی جائے گی، حتیٰ کہ اس میں ملوث میڈیا کو بھی جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق گزشتہ 37 دنوں کے دوران ایران کے خلاف 10 ہزار سے زائد پروازیں کی گئیں اور 13 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک F-15 fighter jet حالیہ کارروائیوں میں تباہ ہوا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ امریکا اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور ایران کے خلاف کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں۔


















