امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اہم کابینہ اجلاس طلب کر لیا جس نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل مچا دی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایران سے جاری تنازع، امریکی معیشت، اور حکومتی سطح پر فراڈ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن سمیت کئی حساس معاملات زیرِ غور آئیں گے۔ تاہم خراب موسم کے باعث اجلاس منسوخ ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں تمام کابینہ ارکان شریک ہوں گے جبکہ سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ کی شرکت بھی متوقع ہے جو حالیہ دنوں ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
حال ہی میں سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی میں ہونے والی سماعت کے دوران تلسی گیبارڈ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا انہوں نے ایران کے خلاف امریکی اقدامات کے ممکنہ نتائج، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش جیسے خدشات، سے متعلق صدر کو خبردار کیا تھا؟ جس پر انہوں نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی خطرے کو فوری قرار دینا انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داری نہیں۔
ادھر ایران میں امریکی کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو چکی ہے اور امریکی حکومت کو کانگریس سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سینیٹرز انتظامیہ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایران پر حملوں کے فیصلے کے پیچھے کون سی انٹیلی جنس معلومات تھیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ اجلاس صرف جنگی صورتحال تک محدود نہیں ہوگا بلکہ آنے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل عوامی خدشات، تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور ملکی سیاسی دباؤ پر بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔


















