امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کئی مقامات پر میزائل حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جزائر قشم اور سیریک میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائیاں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
U.S. Central Command (CENTCOM) forces began launching self-defense strikes against Iran at 5 p.m. ET today at the Commander in Chief’s direction, in response to yesterday’s downing of a U.S. Army Apache helicopter. The mission is a proportional response to unjustified Iranian…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 9, 2026
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ ہرمزگان کے مشرقی علاقوں، جزیرہ قشم اور سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ بندر عباس کے بعض علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے بھی خطے میں امریکی اہداف کے خلاف میزائل اور ڈرون کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاہم جنوبی علاقوں میں صورتحال قابو میں ہے اور سیکیورٹی ادارے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب گشت کرنے والے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جبکہ ایران نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تہران کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔




















