ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایرانی جوابی کارروائیوں میں 200 سے زائد امریکی فوجی ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکی ہلاکتوں سے متعلق واشنگٹن کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حقائق کے منافی قرار دے دیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل حسین محبی کا کہنا تھا کہ ایرانی حملوں میں خطے میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جن میں مبینہ طور پر 8 امریکی فوجی مراکز شامل تھے جبکہ ایک مقام پر قائم 20 حفاظتی شیلٹرز بھی تباہ کیے گئے۔
ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ امریکا کو متاثرہ فوجی اڈوں تک صحافیوں کو رسائی دینی چاہیے تاکہ عالمی برادری اصل صورتحال کا مشاہدہ کر سکے۔ امریکی حکومت جانی و مالی نقصانات کی مکمل تفصیلات منظرعام پر نہیں لا رہی۔
اس سے قبل بھی جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکی اڈوں پر کیے گئے حملوں میں 11 جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ کیے گئے۔
ان کے مطابق ایرانی حملوں میں 17 ڈرونز، شیلٹر میں موجود ایک ایف-15 جنگی طیارہ، ایک پی-8 طیارہ، ایک سی-17 ٹرانسپورٹ طیارہ اور 8 ری فیولنگ ایئرکرافٹ بھی تباہ ہوئے۔




















