تہران: لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز دوابرہ بند کردی ہے۔
ایران نے اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں جس کے جواب میں یہ اقدام اٹھایا گیا۔
ایرانی فوجی کمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش دشمن کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کے جواب میں پہلا عملی اقدام ہے۔
اعلامیے کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ جاری رہا تو ایران مزید سخت اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی حکام نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے جب کہ ایران اسرائیل کو اس کی ذمہ داریوں کا پابند بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کرے گا۔
فوجی قیادت نے کہا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور حالیہ اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایران کے اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش عالمی تیل اور گیس کی منڈیوں پر نمایاں اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
یاد رہے کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے جاری رکھے جن میں بچوں سمیت کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوئے۔
لبنانی شہری دفاع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 28 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔




















