ٹرمپ انتظامیہ نے آبنائے ہرمز کے قریب متعدد ٹینکروں پر نامعلوم پروجیکٹائل حملوں کے بعد سخت کارروائی کرتے ہوئے ایران پر تیل بیچنے کی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت مکمل طور پر کارکردگی پر مبنی تھی۔ ایک امریکی اہلکار نے امریکی نیوز چینل کو بتایا کہ ایران کو فوائد صرف اچھا رویہ دکھانے پر ہی مل سکتے تھے لیکن آبنائے ہرمز میں ان کے ناقابل قبول اقدامات کے نتیجے میں اب سخت نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
واشنگٹن سے ایرانی تیل پر پابندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں امریکہ کا خام تیل 5% سے زائد مہنگا ہو کر 72 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا جبکہ انٹرنیشنل برینٹ کروڈ 5.3% اضافے کے ساتھ 75 ڈالر فی بیرل کے پار ہو گیا۔
واضح رہے کہ امریکی خزانہ محکمے نے پابندی فوری طور پر نافذ کر دی ہے۔ اب ایران کو 17 جولائی تک اپنا تیل بیچنے کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا۔ پہلے یہ رعایت 21 اگست تک تھی۔
ایران امریکا مذاکرات کے بعد ایرانی تیل پر سے پابندیاں اٹھنے کے بعد تیل کی مارکیٹ کو ریلیف ملا تھا اور قیمتیں غیر معمولی طور پر نیچے آ چکی تھی لیکن اب صورتحال دوبارہ سنگین ہو گئی ہے۔
















