Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران کے 5 خفیہ ہتھیار جنہوں نے سپر پاور امریکا کو دن میں تارے دکھا دیے

اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ دشمن کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے ٹریک کیا جا رہا ہے

تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی میں جہاں امریکا اپنی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی، جنگی طیاروں اور دفاعی نظام پر انحصار کرتا ہے وہیں ایران نے بھی ایسے ہتھیار میدان میں اتارے ہیں جنہوں نے امریکی دفاعی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیت کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جاتا رہا تاہم حالیہ برسوں میں تہران نے اپنے مقامی دفاعی پروگرام کے ذریعے ایسے نظام تیار کیے ہیں جن کا مقصد دشمن کے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کرنا ہے۔

ایران نے انہی ہتھیاروں کے ذریعے اپنے سے کئی گنا بڑی اور جدید عسکری طاقت رکھنے والے سپر پاور امریکا کو جنگ کے دوران ناقابل نقصان پہنچایا، جدید ایف 35 طیارے سمیت متعدد طیارے تباہ کئے بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

امریکی حکام اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور فضائی دفاعی نظام خطے میں ایک اہم عسکری عنصر بن چکے ہیں۔

1۔ کروز میزائل، کم بلندی پر چھپ کر وار کرنے والا ہتھیار

ایران کے کروز میزائل سسٹم میں قدس سیریز سمیت مختلف میزائل شامل ہیں جو کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ میزائل سمندری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ان کی کم اونچائی پر پرواز انہیں دفاعی نظام کے لیے ایک مشکل ہدف بنا دیتی ہے۔

2۔ خیبر شکن، تیز رفتار اور خطرناک بیلسٹک میزائل

ایران کا خیبر شکن میزائل جدید بیلسٹک ٹیکنالوجی کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ ٹھوس ایندھن سے چلنے والا یہ میزائل کم وقت میں لانچ کیا جا سکتا ہے اور تقریباً 1400 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس میزائل کی خاص بات اس کا مینیووریبل وارہیڈ ہے، جو دورانِ پرواز راستہ تبدیل کر سکتا ہے، جس سے دفاعی نظام کے لیے اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔

3۔ سجیل-2، ایران کا طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل

سجیل-2 ایران کے اہم درمیانی فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دو مرحلوں پر مشتمل یہ میزائل ٹھوس ایندھن استعمال کرتا ہے، جس سے اسے فوری طور پر لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس کی رینج خطے کے کئی اہم اہداف تک پہنچنے کے لیے کافی ہے، جبکہ اس کی رفتار اور راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت اسے زیادہ مؤثر بناتی ہے۔

4۔ تھرڈ خرداد، فضائی حملوں کے خلاف ایرانی ڈھال

ایران کا تھرڈ خرداد فضائی دفاعی نظام دشمن کے طیاروں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام جدید جنگی طیاروں اور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موبائل ہونے کی وجہ سے اسے مختلف مقامات پر منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔

5۔ پیسیو انفرا ریڈ سسٹم، بغیر سگنل کے دشمن کی تلاش

ایران نے فضائی نگرانی کے لیے ایسے نظام تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو ریڈار سگنل خارج کیے بغیر طیاروں اور میزائلوں کی حرارت کو محسوس کر سکتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ دشمن کو معلوم نہیں ہوتا کہ اسے ٹریک کیا جا رہا ہے جس سے جدید جنگی طیاروں کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

امریکا کے لیے اصل چیلنج کیا ہے؟

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے ہتھیاروں کی اصل طاقت صرف ان کی تعداد نہیں بلکہ کم لاگت، موبائل لانچنگ سسٹم اور مختلف ٹیکنالوجیز کا امتزاج ہے۔

دوسری جانب امریکا کے پاس دنیا کے جدید ترین جنگی جہاز اور دفاعی نظام موجود ہیں، تاہم طویل جنگ کی صورت میں میزائل دفاعی ذخائر، لاگت اور خطے میں موجود فوجی تنصیبات کا تحفظ ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جنگی صلاحیتوں سے متعلق کئی دعوے فریقین کی جانب سے کیے جاتے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی، تاہم ایران کے میزائل پروگرام کو مشرق وسطیٰ کی اہم عسکری حقیقتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں