اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا اسرائیلی فوج واپس نہیں جائے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے متعلق اپنے مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کا غیر مسلح ہونا کسی بھی ممکنہ فوجی انخلا کے لیے بنیادی شرط ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم ایک جانب آئندہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب غزہ پالیسی کے معاملے پر انہیں اپنی حکومت کے دائیں بازو کے سخت گیر وزرا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف دباؤ کا سامنا ہے۔
غزہ کے معاملے پر اسرائیلی حکومت کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کے رہنما حماس کے خلاف سخت پالیسی جاری رکھنے اور کسی بھی نرمی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملاڈینوف سے ملاقات کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ سے فوج کے مکمل انخلا کے معاملے پر اسرائیلی حکومت اب بھی سخت مؤقف پر قائم ہے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط کو مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔

















